پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.65 فیصد کر دی گئی: نئے اعداد آپ کی آمدنی اور معیشت کے بارے میں کیا بتاتے ہیں
قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2026 کی شرحِ نمو 3.65 فیصد کر دی جو ہدف سے کم ہے۔ فی کس آمدنی 1,896 ڈالر اور معیشت کا حجم 450.4 ارب ڈالر۔

پاکستان کی معیشت پچھلے سال حکومت کی امید سے سست رفتار سے بڑھی۔ ڈان کے مطابق پیر 19 اکتوبر کو ادارہ شماریات میں ہونے والے قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے 118ویں اجلاس میں مالی سال 2025-26 کی شرحِ نمو 3.65 فیصد کر دی گئی۔
اہم اعداد
| مالی سال 2026 | مالی سال 2025 | |
|---|---|---|
| شرحِ نمو | 3.65% | 3.11% (نظرثانی شدہ) |
| معیشت کا حجم | 450.4 ارب ڈالر | 410.96 ارب ڈالر |
| فی کس آمدنی | 1,896 ڈالر | 1,824 ڈالر |
حکومت کا ابتدائی ہدف 4 فیصد تھا، پھر مئی میں 3.70 فیصد کا اندازہ لگایا گیا۔ نئے عدد کا مطلب ہے کہ پاکستان ہدف پورا نہیں کر سکا، جس کی وجہ حکام نے صنعت اور خدمات کے شعبوں میں معمولی سستی بتائی۔
شعبہ وار صورتحال
- زراعت: بڑھ کر 3.50 فیصد (پہلے 2.89 فیصد)، سب سے روشن پہلو۔
- صنعت: کم ہو کر 3.34 فیصد (پہلے 3.51 فیصد)۔
- خدمات: کم ہو کر 3.81 فیصد (پہلے 4.09 فیصد)۔
- بڑی صنعتیں: 6.11 سے کم ہو کر 5.01 فیصد۔
- تعمیرات: بڑھ کر 6.30 فیصد۔
- تھوک اور پرچون تجارت: 3.71 سے کم ہو کر 2.37 فیصد۔
سال بھر میں رفتار بھی کم ہوتی گئی: پہلی تین سہ ماہیوں میں 3.89، 4.31 اور 4.42 فیصد، پھر اپریل تا جون کی سہ ماہی میں صرف 2 فیصد۔
عام لوگوں کے لیے اس کا مطلب
ہم انگلش کے مطابق فی کس آمدنی بڑھ کر 1,896 ڈالر یعنی 5 لاکھ 31 ہزار 897 روپے سالانہ (تقریباً 44 ہزار 300 روپے ماہانہ) ہو گئی، لیکن یہ اوسط ہے، اور زیادہ تر لوگ اس سے کہیں کم کماتے ہیں۔ ڈان کے مطابق یہ اب بھی خطے میں سب سے کم ہے۔
4 فیصد سے کم ترقی ان لاکھوں نوجوان پاکستانیوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کو کافی نہیں جو ہر سال کام کی منڈی میں آتے ہیں۔ زراعت کی اچھی خبر دیہی آمدنی کے لیے اہم ہے، لیکن دکانوں، تجارت اور کارخانوں کی سستی وہ چیز ہے جو شہروں کے بہت سے خاندان محسوس کریں گے۔
نیا اندازہ بیرونی پیشگوئیوں کے مطابق ہے: آئی ایم ایف نے 3.6 فیصد، جبکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 3.7 فیصد کا اندازہ لگایا تھا۔
اسٹاک مارکیٹ
اعداد سامنے آنے کے دن، پیر کو، اسٹاک مارکیٹ میں بے چینی رہی۔ دی نیشن کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 453.63 پوائنٹس (0.27 فیصد) گر کر 165,966 پر بند ہوا، جبکہ 302 حصص کی قیمتیں گریں اور 163 کی بڑھیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



