پشاور اسکول کی چھت گرنے کا سانحہ: 30 سے زیادہ بچوں کی جان لینے والے واقعے کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے
15 اکتوبر کو پشاور کی ڈیر کالونی میں کلاسوں کے دوران ایک اسکول کی چھت گر گئی۔ ہلاکتیں، گرفتاریاں، حفاظتی آڈٹ اور والدین کیا دیکھیں۔

پاکستان ابھی تک اپنے بدترین اسکول سانحات میں سے ایک کے صدمے میں ہے۔ جمعرات 15 اکتوبر 2026 کو پشاور کی ڈیر کالونی میں ایک نجی اسکول، الخیر ایجوکیشن سینٹر، کی چھت کلاسوں کے دوران گر گئی۔
جانی نقصان
رپورٹس میں فرق ہے، اور امدادی کارروائی کے ساتھ اعداد بدلتے رہے:
- ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کم از کم 30 بچے اور ایک خاتون استاد جاں بحق اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ ہسپتالوں کی فہرستوں کو ابھی ملایا جا رہا تھا۔
- پاکستان ٹوڈے اور ڈیلی ٹائمز کی بعد کی رپورٹس میں ہلاکتیں 35 بتائی گئیں، جن میں تقریباً سب بچے اور اساتذہ تھے۔
اسکول میں 110 طلبہ داخل تھے، سب کی عمریں 14 سال یا اس سے کم تھیں۔ چھت گرنے کے وقت تقریباً 30 بچے اوپر کی منزل کی کلاسوں میں تھے۔ تین منزلہ عمارت تنگ گلیوں والے گنجان علاقے میں تھی، جس کی وجہ سے امدادی کام میں مشکل ہوئی۔
وجہ کیا تھی
پشاور پولیس کے سربراہ ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق چھت ناقص طریقے سے بنی تھی، عمارت پر حد سے زیادہ بوجھ لگتا تھا اور اس میں کئی خامیاں تھیں، اور چھت کا سلیب مٹی کی پتلی ٹائلوں یا مخصوص اینٹوں سے بنا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جانچ کرے گی کہ تعمیرات کے کون سے قوانین توڑے گئے۔
گرفتاریاں اور تحقیقات
- اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا۔ آغا میر جانی تھانے میں درج ایف آئی آر میں ٹھیکیدار، مالکان اور شیئر ہولڈرز کے نام شامل ہیں، اور اس میں کہا گیا ہے کہ ناقص میٹریل استعمال ہوا اور دیواروں اور چھت کی خراب حالت کی شکایات نظرانداز کی گئیں۔
- جائے حادثہ کا دورہ کرنے والے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تحقیقات چند دنوں میں مکمل ہوں گی اور خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کے اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا، جس کی رپورٹ ایک ہفتے میں آنی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکول کو این او سی جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
- صوبائی محکمہ تعلیم نے کے پی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ کی قیادت میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی۔
- ہر جاں بحق کے لیے 10 لاکھ روپے اور ہر زخمی کے لیے 2 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور دیگر رہنماؤں نے دکھ کا اظہار کیا اور حفاظتی معیار سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔
والدین کیا دیکھیں
کسی والدین کو یہ سوچنا نہ پڑے، لیکن اپنے بچے کے اسکول سے چند سادہ سوال پوچھنا ضروری ہے:
- کیا عمارت رجسٹرڈ اور معائنہ شدہ ہے؟ پوچھیں کہ آخری بار کسی انجینئر نے کب جانچ کی۔
- کیا چھت یا اوپر کی منزلوں پر نئی تعمیر ہوئی ہے؟
- کیا واضح دراڑیں، جھکی ہوئی چھتیں یا پانی کا رساؤ نظر آتا ہے؟
- کیا ہر منزل سے نکلنے کے دو راستے ہیں؟
اصل حل ریگولیٹرز کو کرنا ہوگا: اسکول کھلنے سے پہلے صحیح معائنہ، اور غیر محفوظ عمارتیں بند کرنے کا اختیار۔ ہماری دعائیں پشاور کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



