حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب نے 'صحرا کا ڈیووس' ملتوی کر دیا: مکہ دفاعی معاہدے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے

ریاض پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب نے اپنی بڑی سرمایہ کاری کانفرنس ایف آئی آئی اگلے سال تک ملتوی کر دی۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان نے کیا وعدہ کیا اور کس بات کی تردید کی۔

Riyadh, Saudi Arabia
تصویر: Yahoo News / DPA

یمن کی جنگ سعودی عرب کی بڑی تقریبات تک پہنچ گئی ہے، اور پاکستان اس کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

التوا

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے 20 اکتوبر کو بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی سب سے بڑی سرمایہ کاری کانفرنس فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (ایف آئی آئی)، جسے اکثر “صحرا کا ڈیووس” کہا جاتا ہے، اگلے سال تک ملتوی کر دی ہے۔ پچھلے سال 8 ہزار سے زیادہ شرکاء والی یہ تقریب ریاض میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں شروع ہونی تھی۔ کوئی نئی تاریخ نہیں دی گئی۔

وجہ یمن کے ایران نواز حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگ ہے، جنہوں نے مملکت پر حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں ریاض ایئرپورٹ پر حملے بھی شامل ہیں جن میں کئی افراد جاں بحق اور بہت سے زخمی ہوئے۔ ایئرپورٹ پر کام آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے، لیکن بہت سی ایئرلائنز اب بھی ریاض سے گریز کر رہی ہیں۔

صرف ایف آئی آئی متاثر نہیں ہوئی۔ یورپی یونین-جی سی سی سربراہی اجلاس، مسک گلوبل فورم، کئی کھیلوں کے مقابلے اور ریڈ سی فلم فیسٹیول بھی منسوخ یا ملتوی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کا کردار: مکہ معاہدہ

7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے سیکریٹریٹ کی پہلی تین سالہ سربراہی پاکستان کے پاس ہے۔

حوثی حملے بڑھنے کے بعد یہ معاہدہ کاغذ سے عمل کی طرف بڑھا ہے:

  • ڈان کے مطابق 5 اکتوبر کو تینوں ممالک نے ریاض میں ہنگامی اجلاس کیا اور مملکت میں فوری طور پر فوجی دستے اور صلاحیتیں تعینات کرنے پر اتفاق کیا۔
  • وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی “میدان میں موجودگی” ہے، لیکن جنگی کارروائیوں میں صرف سعودی فوجی شامل ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاہدے کی کوئی شق کسی رکن کو خطرے کی صورت میں “براہِ راست شامل” ہونے سے نہیں روکتی۔
  • فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستانی فوجی “دہائیوں سے” سعودی عرب میں موجود ہیں، اور اس سے پہلے کہا تھا کہ پاکستان مملکت کے دفاع کے لیے “کسی بھی حد تک” جائے گا۔
  • 19 اکتوبر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے معاہدے کے تحت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

پاکستان کس بات کی تردید کرتا ہے

وزارتِ اطلاعات نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کو “جھوٹی اور من گھڑت” قرار دیا کہ پاک فضائیہ کے طیارے حوثیوں کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، اور روئٹرز کی 30 سے 40 ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کی رپورٹ کو “قیاس آرائی” کہا۔

گھر کے لیے یہ کیوں اہم ہے

لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں رہتے اور کام کرتے ہیں، اور ان کی ترسیلاتِ زر بہت سے خاندانوں کا سہارا ہیں۔ ان کی حفاظت، وطن واپسی کی پروازیں اور روزگار سب اس جنگ کے رخ پر منحصر ہیں۔ پاکستانی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا پاکستان یمن کی لڑائی میں کھنچے بغیر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔

ذرائع

  1. Yahoo News (DPA): Saudi Arabia postpones flagship investment forum after Houthi attacks
  2. Dawn: No stipulation in Makkah pact bars 'direct involvement' of members in case of threat to a country: Asif
  3. Dawn: CDF Munir, new Saudi envoy express satisfaction at progress made under Makkah defence pact
  4. Asia News Network (Dawn): Pakistan's military says Makkah defence pact has 'no regional aspirations'

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں