خیبر پختونخوا میں گورنر راج: پشاور ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا، اگلی سماعت 10 نومبر کو
پشاور ہائی کورٹ نے کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف پی ٹی آئی اور وکلا کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیے۔ کس فریق کا کیا مؤقف ہے اور آگے کیا ہوگا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر قانونی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ منگل 20 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیے اور سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔
عدالت میں کیا ہوا
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف کئی درخواستوں کی سماعت کی، جو ان کی جانب سے دائر کی گئیں:
- پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان
- پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار
- کے پی بار کونسل
- تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے نمائندے
ڈیلی پاکستان کے مطابق نوٹس وفاقی اور کے پی حکومتوں، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو بھیجے گئے۔
پس منظر
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ حکومت نے بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے عدم تعاون کو وجہ بتایا۔ تب سے گورنر فیصل کریم کنڈی صوبہ چلا رہے ہیں، اور ان کی مدد کے لیے 11 رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف
بیرسٹر گوہر کے وکلا بیرسٹر سمیر کھوسہ اور سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ:
- آئین کے آرٹیکل 232(1) کے تحت ایسی ایمرجنسی سے پہلے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جو منظور نہیں ہوئی۔ بعد میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظوری کو بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔
- کے پی کے حالات ان اقدامات کا جواز نہیں بنتے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے پیر صابر شاہ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایمرجنسی میں بھی وزیراعلیٰ اور کابینہ کو کام جاری رکھنا چاہیے۔
- پی ٹی آئی کے وکیل کے مطابق آرٹیکل 234 صرف اس وقت استعمال ہو سکتا ہے جب صوبائی حکومت کام کرنا چھوڑ دے۔
درخواست میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کی بازیابی کی بھی استدعا کی گئی ہے، جن کے بارے میں وکلا کا الزام ہے کہ وہ لاپتا ہیں، اور اسمبلی کی بحالی مانگی گئی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے یہ الزام بھی لگایا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ 12 ارکانِ قومی اسمبلی اور 14 صوبائی ارکان کو اٹھا لیا گیا ہے۔ یہ عدالت میں کیے گئے دعوے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
آگے کیا ہوگا
اب حکومت کو اپنا جواب جمع کرانا ہے۔ عدالت نے ابھی مقدمے کے میرٹ پر کوئی فیصلہ نہیں دیا، اور کیس 10 نومبر کو دوبارہ سنا جائے گا۔ تب تک گورنر راج برقرار رہے گا۔
کے پی کے عوام کے لیے عملی سوال یہ ہے کہ صوبہ کب تک منتخب حکومت کے بغیر چلے گا۔ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ، اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں کوئی اپیل، یہی طے کرے گی۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



