روس کی پاک افغان کشیدگی کم کرنے میں مدد کی پیشکش: ماسکو کیا چاہتا ہے اور مذاکرات کیوں ناکام ہوئے
ماسکو فارمیٹ مذاکرات پہلی بار مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہونے کے بعد روسی سفیر نے پاک افغان سرحدی گزرگاہیں کھولنے پر زور دیا اور مدد کی پیشکش کی۔

روس خطے کے سب سے خطرناک تنازعات میں سے ایک میں قدم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے: پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان کشیدگی۔
تازہ پیشکش
شفقنا پاکستان کے مطابق منگل کو انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر البرٹ خوریف نے کہا کہ روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا:
- سرحدی تنازع کا جلد حل
- سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنا، کیونکہ ان کے مطابق بندش علاقائی تجارت کو نقصان پہنچا رہی ہے
انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کی رپورٹس پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اس پیشکش پر پاکستان کا کوئی باقاعدہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
ماسکو مذاکرات کیوں ٹوٹے
یہ پیشکش 5 اکتوبر کو ماسکو میں ہونے والے ایک کشیدہ اجلاس کے بعد آئی ہے، جو ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں دور تھا۔ یہ 2017 میں روس کی قیادت میں بنایا گیا علاقائی فورم ہے جس میں روس، پاکستان، افغانستان، چین، ایران، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پہلی بار شرکاء مشترکہ اعلامیے پر متفق نہ ہو سکے:
- پاکستان کا مؤقف: خصوصی نمائندے محمد صادق نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان کے مسائل کی جڑ ہے اور طالبان پر کالعدم ٹی ٹی پی سمیت شدت پسند گروہوں سے روابط کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق تین سال میں افغانستان سے آنے والی دہشت گردی سے 4,700 سے زیادہ پاکستانی جاں بحق ہوئے، اور انہوں نے افغانستان کے اندر پاکستانی حملوں کو “درست، انٹیلی جنس پر مبنی اور دفاعی” قرار دیا۔
- افغانستان کا مؤقف: قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان پر سفارت کاری کے بجائے فوجی دباؤ پر انحصار کا الزام لگایا اور کہا کہ تنازعات بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں۔
- روس کا نقطہ نظر: روسی ایلچی ضمیر کابلوف نے کہا کہ افغان وفد نے مسودے میں دہشت گردی کے حوالے سے افغانستان کے بار بار ذکر پر اعتراض کیا، جس سے حتمی متن رک گیا۔
کیا روس واقعی مدد کر سکتا ہے؟
روس کی پوزیشن منفرد ہے: 2025 میں وہ طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا، اور ساتھ ہی اسلام آباد سے بھی تعلقات بڑھا رہا ہے۔ اس سے ماسکو کو دونوں فریقوں تک رسائی ملتی ہے۔ لیکن یہی اس کی حد بھی ہے۔ پاکستان کے مطالبات پر طالبان پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے کابل کے ساتھ روس کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے اس کا مطلب
سرحد کے قریب رہنے والوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کے لیے یہ کوئی نظریاتی بات نہیں۔ بند گزرگاہوں کا مطلب تجارت اور روزگار کا نقصان ہے، اور شدت پسندوں کے حملے سب سے بڑا سیکیورٹی خطرہ ہیں۔ کوئی بھی حقیقی ثالثی جو تجارت کھولے اور تشدد کم کرے، خوش آئند ہوگی۔ فی الحال یہ صرف ایک پیشکش ہے، کوئی عمل نہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



