فون ہاتھ سے نہیں چھوٹتا؟ اسٹینفورڈ کی سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر اینا لیمبکی کا چار ہفتے کا طریقہ

فون کی لت سے کیسے نکلیں؟ اسٹینفورڈ کی سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر اینا لیمبکی کہتی ہیں: ایمانداری سے گنیں، رکاوٹیں لگائیں اور چار ہفتے کا وقفہ لیں۔

Dr Anna Lembke and Steven Bartlett either side of a phone and a syringe under the words Digital Drug
تصویر: The Diary Of A CEO
The Diary Of A CEOمکمل قسط کا حصہ: 45:54–56:11مکمل قسط یوٹیوب پر دیکھیں

اگر فون ہر بار آپ کی توجہ چھین لیتا ہے تو پہلے ایمانداری سے حساب لگائیں اور پھر اپنی سب سے بری ایپ سے چار ہفتے کا وقفہ لیں۔ یہ ہے ڈاکٹر اینا لیمبکی کا بنیادی مشورہ، جو اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں سائیکاٹری کی پروفیسر اور ایڈکشن میڈیسن کی میڈیکل ڈائریکٹر ہیں، اور جنہوں نے اسٹیون بارٹلیٹ کے پوڈکاسٹ دی ڈائری آف اے سی ای او میں یہ بات کی۔ اوپر کی ویڈیو میں صرف عادت توڑنے والا حصہ چلتا ہے۔

مختصر بات

  • اپنی “لت کی چیز” پہچانیں۔ اکثر یہ پورا فون نہیں بلکہ ایک ایپ یا ایک قسم کی ویڈیوز ہوتی ہیں۔
  • ایمانداری سے پیچھے کی طرف گنیں۔ ڈاکٹر لیمبکی کہتی ہیں کہ پچھلے سات دنوں کا حساب لگائیں اور اصل استعمال جوڑیں۔
  • کم اندازے کی توقع رکھیں۔ ان کے بقول ہم اپنا جائزہ لینے میں بہت کمزور ہیں۔
  • اس ایک چیز سے چار ہفتے کا وقفہ لیں۔ اوسطاً اتنا وقت لگتا ہے کہ طلب کا سب سے مشکل دور گزر جائے۔
  • پہلے 10 سے 14 دن سب سے مشکل ہوتے ہیں: بےقراری، چڑچڑاپن، کم نیند، اداسی اور طلب عام بات ہے۔
  • قوتِ ارادی کے بجائے رکاوٹیں لگائیں۔ فون سونے کے کمرے سے باہر، ایپ ڈیلیٹ۔

ڈاکٹر اینا لیمبکی فون کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

ان کی بات کا مرکز وہ تصور ہے جسے وہ لذت اور تکلیف کا توازن کہتی ہیں۔ مسلسل آسان انعامات دماغ کو توازن بحال کرنے پر مجبور کرتے ہیں، اس لیے وقت کے ساتھ نارمل محسوس کرنے کے لیے زیادہ چاہیے ہوتا ہے اور عام زندگی پھیکی لگنے لگتی ہے۔ چینی ہو یا اسکرولنگ، کسی بھی بےقابو عادت کا ان کا حل ایک وقفہ ہے: اتنی دیر دور رہیں کہ دماغ دوبارہ توازن میں آ جائے۔

وہ اپنی ہی مثال دیتی ہیں۔ کلینک کے لمبے دنوں کے بعد وہ آرام کے لیے یوٹیوب دیکھنے لگی تھیں اور سمجھتی تھیں کہ ہفتے میں دو ایک بار آدھا گھنٹہ ہوتا ہے۔ جب ان کی نوعمر بیٹی نے کہا کہ امی آپ تو ہر وقت یوٹیوب دیکھتی ہیں، تو انہوں نے حساب رکھا اور پتا چلا کہ روزانہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے، یعنی ہفتے میں تقریباً 14 گھنٹے۔ اور ویڈیوز کیا تھیں؟ “ڈاکٹر پمپل پاپر”، جس کا اعتراف کرتے ہوئے وہ خود شرمندہ ہوتی ہیں۔

اسی لیے وہ اعداد و شمار سے آغاز کرتی ہیں۔ وہ عادت چنیں جو آپ کا وہ وقت کھا رہی ہے جو آپ لوگوں یا بامقصد کام کو دینا چاہتے ہیں، پھر وہ طریقہ اپنائیں جسے وہ “ٹائم لائن فالو بیک” کہتی ہیں: آج سے شروع کر کے پچھلے ہفتے کے ہر دن کا حساب لگائیں۔

اس کے بغیر پہلے ہفتوں میں کیا ہوتا ہے؟

ڈاکٹر لیمبکی کم از کم چار ہفتے تجویز کرتی ہیں، کیونکہ اوسطاً اتنا وقت لگتا ہے کہ شدید طلب کا دور ختم ہو اور مسلسل خواہش کے بغیر چھوٹی خوشیوں سے لطف آنے لگے۔ پہلے 10 سے 14 دن سب سے برے ہوتے ہیں، اور مریضوں کو اکثر لگتا ہے کہ یہ طلب کبھی ختم نہیں ہوگی۔ وہ انہیں تسلی دیتی ہیں کہ صبر کریں تو یہ کم ہو جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ قوتِ ارادی ختم ہو جانے والی چیز ہے۔ اس لیے وہ خود کو باندھنے کو ترجیح دیتی ہیں: اپنے اور عادت کے بیچ کوئی جسمانی رکاوٹ رکھنا، جیسے فون کو سونے کے کمرے سے نکالنا یا ایپ ڈیلیٹ کرنا۔ چار ہفتوں کے بعد کچھ لوگ دور ہی رہتے ہیں اور کچھ کم مقدار میں واپس جاتے ہیں۔ مکمل چھوڑنا نہ بھی ہو تو کم کرنا بھی فائدہ مند ہے، اور وہ “سب یا کچھ نہیں” والی سوچ سے خبردار کرتی ہیں جو ایک غلطی کو شرمندگی میں بدل دیتی ہے۔

ہماری رائے

اس بنیادی بات کے حق میں اچھے شواہد ہیں کہ کم فون کا مطلب بہتر توجہ ہے۔ 2025 میں PNAS Nexus میں شائع ایک بےترتیب تجربے میں جن لوگوں نے دو ہفتے فون پر موبائل انٹرنیٹ بند رکھا، مگر کال اور میسج جاری رکھے، ان کی مسلسل توجہ کے ٹیسٹ میں کارکردگی بہتر ہوئی اور انہوں نے بہتر ذہنی کیفیت بتائی۔ “ڈوپامین” والی بات دماغی سائنس کو کچھ آسان کر کے بیان کرتی ہے، مگر عملی مشورہ درست ہے۔

پاکستانی طلبہ کے لیے مکمل فون چھوڑنا ممکن نہیں جب کلاس گروپ، نوٹس اور گھر کے معاملات سب واٹس ایپ پر چلتے ہیں۔ ڈاکٹر لیمبکی کا طریقہ یہاں بہتر بیٹھتا ہے: وہ ایک چیز چنیں جو آپ کی شام کھا جاتی ہے، اکثر شارٹ ویڈیوز، اور صرف اسے چار ہفتے کے لیے ہٹا دیں، خاص طور پر بورڈ امتحانات، MDCAT یا CSS سے پہلے۔ مشترکہ گھر میں کمرہ شیئر کرتے ہیں تو رات کو فون لاؤنج میں چارج پر لگا دیں۔

یہ بات اسکرین کی ہے۔ اگر آپ کی عادت میں شراب یا گولیاں شامل ہیں تو خود سے اچانک نہ چھوڑیں؛ ڈاکٹر لیمبکی کے مطابق اس صورت میں طلب خطرناک ہو سکتی ہے، اس لیے پہلے ڈاکٹر سے بات کریں۔

آج یہ کر کے دیکھیں

  1. فون کی اسکرین ٹائم سیٹنگ کھولیں اور اپنی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ کا پچھلے ہفتے کا وقت لکھیں۔
  2. اگلے 28 دن کے لیے وہ ایپ ڈیلیٹ کریں یا اس سے لاگ آؤٹ ہو جائیں۔
  3. آج رات فون سونے کے کمرے سے باہر چارج کریں۔
  4. کیلنڈر پر چودھواں دن نشان زد کریں۔ ڈاکٹر لیمبکی کے مطابق عموماً تب سے آسانی ہونے لگتی ہے۔

یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔

قسط کے دوسرے حصے

  • 23:22 دماغ لذت اور تکلیف کو کیسے سمجھتا ہے
  • 28:38 ہم اچھی عادتیں کیوں چھوڑ دیتے ہیں
  • 32:46 لت اور ADHD کا تعلق
  • 58:47 مشکل کاموں سے لطف لینا کیسے سیکھیں
  • 1:01:53 دوبارہ اسی عادت میں پڑنے سے کیسے بچیں
  • 1:06:57 نئی عادت شروع کرنے کے لیے “پیچھے گننے” کا طریقہ

ذرائع

  1. The Diary Of A CEO: Dopamine Expert Dr Anna Lembke (YouTube, January 2026)
  2. The Singju Post: Diary Of A CEO with Dr. Anna Lembke on Dopamine Addiction (transcript)
  3. The Diary Of A CEO: independent research and further reading for the Anna Lembke episode
  4. PsyPost: Blocking mobile internet for two weeks improves focus and well-being (PNAS Nexus study)

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں