بےچینی آپ کی زندگی کو محدود نہ کرے: ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جولی اسمتھ کے طریقے
بےچینی کیسے کم کریں؟ کلینیکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جولی اسمتھ کہتی ہیں کہ ڈر سے بھاگنا اسے بڑا کرتا ہے، اس لیے چھوٹے قدموں میں اس کا سامنا کریں۔


جب آپ بےچینی سے بھاگنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ چھوٹی ہونے لگتی ہے۔ یہ کہنا ہے برطانیہ کی کلینیکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جولی اسمتھ کا، جو مشہور کتاب Why Has Nobody Told Me This Before? کی مصنفہ ہیں۔ دی میل رابنز پوڈکاسٹ میں وہ بتاتی ہیں کہ کسی کام سے بچنا آج تو سکون دیتا ہے مگر آہستہ آہستہ زندگی کو تنگ کر دیتا ہے، اور اسے واپس کیسے لیا جائے۔ اوپر کی ویڈیو میں قسط کا صرف یہی حصہ چلتا ہے۔
مختصر بات
- بےچینی ایک تجربہ ہے، دماغ کی خرابی نہیں۔ ڈاکٹر اسمتھ کے مطابق یہ دماغ میں کوئی نقص نہیں۔
- احساس کے بعد آنے والا فیصلہ چھوڑ دیں۔ “اس کا مطلب ہے میں کمزور ہوں” والی سوچ بوجھ بڑھاتی ہے۔
- احساس کو ایک اطلاع سمجھیں۔ پھر دیکھیں کہ کہیں کم نیند، پانی کی کمی یا زیادہ کافی تو اسے بڑھا نہیں رہی۔
- توجہ کی روشنی کا رخ بدلیں۔ جو توجہ ہر وقت مستقبل پر رہے وہ بےچینی بڑھاتی ہے۔
- بچنا دھوکا دیتا ہے۔ وقتی سکون عادت بن جاتا ہے اور زندگی سکڑنے لگتی ہے۔
- ڈر کا سامنا چھوٹے اور بار بار کے قدموں سے کریں، آسان کام سے شروع کر کے۔
ڈاکٹر جولی اسمتھ بےچینی کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟
وہ پہلے احساس اور اس کے ساتھ جڑی کہانی کو الگ کرتی ہیں۔ بہت سے لوگ بےچین ہوتے ہیں اور پھر خود کو اس پر کوستے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ اس فیصلے کو پہچانیں، اسے جانے دیں اور پھر تجسس کے ساتھ احساس کی طرف دیکھیں، کیونکہ ان کے بقول ہر جذبہ کوئی نہ کوئی اطلاع دیتا ہے۔
اگلا سوال یہ ہے کہ ردِعمل حالات کے مطابق ہے یا نہیں۔ جو جسم رات کو ٹھیک سے سویا نہ ہو، پانی کم پیا ہو اور صرف کافی پر چل رہا ہو، وہ عام دن کو بھی بحران سمجھ سکتا ہے۔ غیر یقینی صورتِ حال میں بھی یہی ہوتا ہے: وہ بتاتی ہیں کہ نئی یا مبہم صورتِ حال میں دماغ آپ کو چوکنا کر دیتا ہے تاکہ آپ ہر چیز کے لیے تیار رہیں، اور یہ کیفیت ہمیں دباؤ کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔
زیادہ سوچنے کے بارے میں وہ توجہ کو ایک اسپاٹ لائٹ سے تشبیہ دیتی ہیں۔ پریشان کن خیالات کو مٹانا ضروری نہیں۔ ذرا پیچھے ہٹ کر اوپر سے دیکھیں کہ ذہن میں کیا چل رہا ہے، اور خود طے کریں کہ روشنی کہاں ڈالنی ہے۔
کسی چیز سے بچنا بےچینی کو کیوں بڑھاتا ہے؟
یہی اس کلپ کا اصل حصہ ہے۔ جب بھی آپ ڈر والا کام ٹالتے ہیں تو سکون کی ایک لہر آتی ہے کہ چلو آج تو بچ گئے۔ ڈاکٹر اسمتھ کہتی ہیں کہ یہی سکون بچنے کو ایک لت سی بنا دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ڈر کو بڑھاتا ہے، کیونکہ دماغ کبھی یہ سیکھ ہی نہیں پاتا کہ آپ سنبھال سکتے تھے۔ میل رابنز اپنی مثال دیتی ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں خود سے کہنا پڑتا تھا کہ دن میں کم از کم ایک بار گھر سے باہر نکلنا ہے۔
واپسی کا راستہ آہستہ آہستہ ہے۔ پہلے اپنی زندگی کے اہم شعبوں کو نمبر دیں کہ وہ آپ کے لیے کتنے اہم ہیں اور آپ انہیں کتنا اچھا جی رہے ہیں۔ وہ زور دیتی ہیں کہ یہ خود پر تنقید کا نہیں بلکہ توجہ کی سمت طے کرنے کا طریقہ ہے۔ پھر ڈر والی صورتوں کی فہرست آسان سے مشکل تک بنائیں، کسی قابلِ برداشت کام سے شروع کریں، بس تھوڑا سا قدم رکھیں اور اسے دہراتے رہیں یہاں تک کہ وہ معمول بن جائے۔ ہر بار دہرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ سنبھال سکتے ہیں۔
ہماری رائے
یہ آزمودہ اور مستند نفسیات ہے۔ ڈر کا منصوبہ بندی کے ساتھ تھوڑا تھوڑا سامنا کرنا اس کاگنیٹو بیہیویرل تھراپی (CBT) کا مرکز ہے جسے برطانیہ کی NHS اور NICE بےچینی، بشمول سماجی بےچینی، کے لیے تجویز کرتے ہیں۔ نیند اور کیفین والی باتیں علاج نہیں، عام فہم مشورے ہیں، مگر ان کا اثر لوگوں کی سوچ سے زیادہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں بچنا اکثر اچھے بہانوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے: وائیوا چھوڑ دینا، بینک کو فون بہن بھائی سے کروا لینا، یا “لوگ کیا کہیں گے” کے ڈر سے خاندان کی شادی میں نہ جانا۔ مشترکہ خاندان میں کوئی نہ کوئی ڈراؤنا کام خاموشی سے آپ کی جگہ کر دیتا ہے۔ یہ محبت لگتی ہے مگر ڈر کو زندہ رکھتی ہے۔
ایک احتیاط: خود سے سامنا کرنے کا یہ طریقہ روزمرہ کے ڈر کے لیے ہے۔ اگر بےچینی آپ کو کام، پڑھائی یا گھر سے نکلنے سے روک رہی ہے، یا پینک اٹیک ہو رہے ہیں، تو اکیلے کوشش کے بجائے پہلے ڈاکٹر یا مستند ماہرِ نفسیات سے ملیں۔
آج یہ کر کے دیکھیں
- ایک ایسا کام لکھیں جسے آپ اس مہینے ٹالتے آ رہے ہیں۔
- اسے تین چھوٹے قدموں میں بانٹیں اور آج صرف پہلا قدم اٹھائیں۔
- بےچینی بڑھے تو اسے نام دیں (“یہ بےچینی ہے”) اور بنیادی چیزیں دیکھیں: نیند، پانی، اور چائے کافی بھی گنیں۔
- اگلے قدم سے پہلے کل وہی چھوٹا قدم دوبارہ اٹھائیں۔
یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔
قسط کے دوسرے حصے
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



