کراچی میں دسمبر 2024 کے بعد پولیو کا پہلا کیس، 2026 میں ملک بھر کے کیسز سات ہو گئے
کراچی ایسٹ کے چھ ماہ کے بچے میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق۔ کراچی کے تمام اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم 2 سے 8 نومبر تک چلے گی۔

کراچی میں دسمبر 2024 کے بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد رواں سال پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
انسدادِ پولیو کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے پیر 19 اکتوبر کو تصدیق کی کہ کراچی کے ضلع شرقی کی یونین کونسل جمالی کالونی سے تعلق رکھنے والے چھ ماہ کے بچے میں وائلڈ پولیو وائرس پایا گیا ہے۔ یہ کیس پولیو نگرانی کے نظام کے ذریعے سامنے آیا اور اس کی تصدیق اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے کی۔
کیس کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے
ڈان کے مطابق این ای او سی کا کہنا ہے کہ بچہ غذائی قلت کا شکار تھا اور اسے وہی وائرس لگا جو پہلے سے کراچی میں موجود ہے۔ ستمبر میں شہر کے صرف ایک ماحولیاتی نمونے کے مقام سے وائرس ملا تھا۔ معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اور پولیو پروگرام کے مطابق وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے بہترین حکمتِ عملی پر کام ہو رہا ہے، جس میں مخصوص علاقوں میں ویکسینیشن اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو مضبوط کرنا شامل ہے۔
کیسز کہاں ہیں
- خیبر پختونخوا: 5 کیسز، جن میں سے چار بنوں ڈویژن سے ہیں
- سندھ: 2 کیسز، جن میں کراچی کا یہ کیس بھی شامل ہے
اس سال کا چھٹا کیس، ضلع خیبر کا سات سالہ بچہ، تقریباً دو ہفتے پہلے رپورٹ ہوا تھا۔
یہ تعداد پچھلے سال سے کہیں کم ہے، جب پاکستان میں 31 کیسز سامنے آئے تھے اور ان میں سے 20 خیبر پختونخوا میں تھے۔ این ای او سی کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل کے مقابلے میں، جب ملک میں سالانہ اندازاً 20 ہزار کیسز ہوتے تھے، کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن پاکستان اور افغانستان اب بھی دنیا کے وہ واحد ملک ہیں جہاں وائلڈ پولیو ختم نہیں ہو سکا، اس لیے کراچی جیسے بڑے شہر میں ایک کیس بھی سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔
والدین کیا کریں
پولیو کا کوئی علاج نہیں۔ این ای او سی کے مطابق اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ ویکسین ہے۔
اگلی انسدادِ پولیو مہم 2 سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں چلے گی، جس میں تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف ہے، اور اس میں کراچی کے تمام اضلاع شامل ہیں۔ یہ مہم افغانستان کی مہم کے ساتھ ایک ہی وقت میں چلائی جا رہی ہے۔
این ای او سی نے والدین سے اپیل کی ہے کہ:
- ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، چاہے پہلے پلائے جا چکے ہوں۔
- قریبی مرکزِ صحت سے معمول کے حفاظتی ٹیکے مکمل کروائیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



