عاصم منیر تہران میں: پاکستان کے آرمی چیف آج ایران کیوں جا رہے ہیں
فیلڈ مارشل عاصم منیر 20 اکتوبر کو تہران جا رہے ہیں جبکہ پاکستان رکے ہوئے امریکہ ایران مذاکرات بحال کرنے کی کوشش میں ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی قیمتوں تک کیا داؤ پر ہے۔

روئٹرز اور عرب نیوز کے مطابق ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر آج منگل 20 اکتوبر کو تہران پہنچ رہے ہیں۔ یہ آج پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔
وہ کیوں جا رہے ہیں
یہ دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کے ثالثی کردار کا حصہ ہے، جو اسلام آباد اس سال کے بیشتر حصے میں ادا کرتا رہا ہے۔
کچھ پس منظر:
- ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جون میں امریکہ اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جو حتمی معاہدے کی جانب بات چیت کا فریم ورک تھا۔
- یہ مذاکرات بعد میں سیکیورٹی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی پر اختلاف کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے۔
- گرمیوں میں عاصم منیر نے ایرانی قیادت سے کشیدگی روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع جلد ختم کرنے پر بات کی تھی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس دورے میں علاقائی معاملات پر بھی بات ہوگی۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کن شخصیات سے ملیں گے۔
یہ ابھی کیوں اہم ہے
کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے:
- پیر کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے نیچے سے سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز گزرتی ہیں، اور خبردار کیا کہ “نئے اہداف سامنے لائے جائیں گے”۔
- منگل کو ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق آئی آر جی سی نے آبنائے کے اوپر امریکی ایم کیو 9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
اس صورتحال میں پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جو تہران اور واشنگٹن دونوں سے قریبی رابطہ رکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
- ایندھن کی قیمتیں: آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ وہاں امن پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
- سلامتی: پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد ہے۔ پڑوس میں بڑی جنگ براہِ راست خطرہ ہوگی۔
- سفارت کاری: کامیاب ثالثی سے امریکہ اور خلیجی ممالک دونوں کے ساتھ پاکستان کی حیثیت مضبوط ہوگی۔
ابھی کسی نتیجے کا اعلان نہیں ہوا۔ ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آنے پر ہم یہ خبر اپ ڈیٹ کریں گے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



