عاصم منیر کا دورۂ تہران: ایران نے پاکستان کے آرمی چیف سے کیا کہا اور کوئی بریک تھرو کیوں نہیں ہوا؟
ایرانی صدر، اسپیکر اور سیکیورٹی چیف تینوں کا ایک ہی پیغام تھا: پہلے پابندیاں ہٹاؤ، پھر بات ہو گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل 20 اکتوبر کو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی ایک اور کوشش کے لیے تہران پہنچے، اور اسی روز کسی اعلان کردہ پیش رفت کے بغیر واپس روانہ ہو گئے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہاں کیا بات ہوئی اور پاکستان کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے۔
کن سے ملاقات ہوئی؟
عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں۔
پیغام: پہلے پابندیاں ختم، پھر مذاکرات
- صدر پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات سے پہلے امریکہ کو دھمکیاں اور پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ ایران انٹرنیشنل کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتی اور سمجھتی ہے کہ اگر بات چیت کی تو “وہ ہم پر دوبارہ حملہ کریں گے”۔ انہوں نے پاکستان کی کوششوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
- اسپیکر قالیباف نے کہا کہ ایران کے پاس امریکہ کو دینے کے لیے کچھ نیا نہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے اور فوجی دھمکیاں ایران کے مطالبات نہیں بدل سکتیں۔
- محسن رضائی نے جوہری معاملے پر دو ٹوک کہا کہ “افزودہ جوہری مواد کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں جائے گا”۔
ایران کیا چاہتا ہے؟
دی نیشنل کے مطابق ایران کی تجویز یہ ہے کہ وہ سات دن میں آبنائے ہرمز اپنے کنٹرول میں دوبارہ کھول دے گا۔ بدلے میں وہ امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، تیل کی برآمد پر نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور تمام محاذوں پر جنگ بندی چاہتا ہے، اور یہ سب جوہری مذاکرات سے پہلے۔
ایک غیر مصدقہ تجویز
عربی اخبار العربی الجدید نے دعویٰ کیا کہ قطر اور پاکستان نے تجویز دی ہے کہ قطر میں منجمد تقریباً 6 ارب ڈالر پر سود ایران کو دیا جائے اور بدلے میں جوہری تنصیبات تک رسائی ملے۔ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی، اور ایک ایرانی پارلیمانی ترجمان نے کہا کہ دورہ صرف دوطرفہ تعلقات اور سرحدی تعاون کے بارے میں تھا۔
پاکستان کے لیے اہمیت
آئی ایم ایف کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے اس سال پاکستان کی معیشت سکڑ سکتی ہے، اور دورے کے دنوں میں تیل 110 ڈالر فی بیرل کے قریب تھا۔ ثالثی میں پیش رفت ہو تو تیل سستا ہوتا ہے، جس کا اثر سیدھا ہمارے پیٹرول اور بجلی کے بلوں پر پڑتا ہے۔
دوسری طرف رائٹرز کے حوالے سے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 3 نومبر کے امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے کسی معاہدے کا امکان کم ہے۔ اس لیے اگلے دو ہفتوں میں معاہدے کے بجائے مزید دوروں کی توقع رکھنی چاہیے۔ منیر کی روانگی کے بعد قطری وفد تہران پہنچا، یعنی ثالثی کا راستہ ابھی کھلا ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



