ایران کا دعویٰ: خلیج میں 7 جہاز نشانہ بنے، امریکی حملے کی صورت میں 'نیا آپریشنل پلان' تیار
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مطابق چار ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا اور تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے، جبکہ ایران نے نئے جوابی منصوبے کی دھمکی دی ہے۔

ایران نے چار دن میں دو بڑی وارننگز دی ہیں۔ پہلے اس کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو تہران کے پاس ایک “نیا آپریشنل پلان” تیار ہے۔ پھر پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا کہ خلیج میں سات جہاز نشانہ بنے ہیں۔
‘نیا آپریشنل پلان’
اتوار 18 اکتوبر کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے کسی بھی نئے حملے کے لیے نیا جوابی منصوبہ بنا لیا ہے۔ سی این بی سی اور ایف ایکس اسٹریٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ “ان اصولوں پر نہیں چلے گا جن سے وہ واقف ہیں”۔ ایک اور اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ نیا راؤنڈ پچھلی 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں سے “کہیں زیادہ تباہ کن” ہو گا۔
رضائی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی مراکز بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔
سات جہاز
ایکسپریس ٹریبیون میں شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بدھ 21 اکتوبر کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا:
- شمالی خلیج میں چار جہازوں کو، جن پر “غیر مجاز راستوں” سے تیل منتقل کرنے کا الزام تھا، نشانہ بنایا گیا اور ان میں آگ لگ گئی۔
- آبنائے ہرمز کے مغرب میں تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔
پاسداران نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ جہازوں کو بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے پر اکسا رہا ہے، اور خبردار کیا کہ جواب خطے میں امریکی اڈوں تک جا سکتا ہے۔
یہ ایران کے دعوے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور ایرانی سرکاری ٹی وی نے ہلاکتوں یا جہازوں کے جھنڈوں کی تفصیل نہیں دی۔
سمندر میں دیگر حملے
برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق اتوار کو متحدہ عرب امارات کے شمال مشرق میں ایک ٹگ بوٹ کو دو نامعلوم میزائل لگے، جبکہ یمن کے قریب ایک گیس ٹینکر کے پاس سات افراد والی چھوٹی کشتی آئی۔ سعودی عرب نے بتایا کہ ایک ٹینکر کو چھوٹی کشتی سے راکٹ گرینیڈ مارا گیا۔
ٹرمپ نے کیا کہا؟
جنوبی کیرولائنا میں ایک ریلی سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران سے “مذاکرات نہیں کر رہا” اور “جلد ہی” کچھ نہ کچھ ہو گا۔ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں ہو گا۔
پاکستان کے لیے اہمیت
دنیا کے تیل کا بڑا حصہ ہرمز سے گزرتا ہے اور پاکستان اپنا زیادہ تر ایندھن درآمد کرتا ہے۔ ہر نیا حملہ تیل مہنگا کرتا ہے، جو ہمارے پیٹرول اور بجلی کے بلوں میں نظر آتا ہے۔ انٹرنیٹ کیبلز کی دھمکی بھی اہم ہے کیونکہ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں، پاکستان کو انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کیبلز انہی پانیوں سے گزرتی ہیں۔
پاکستان اور قطر کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ابھی جاری ہے، لیکن دونوں طرف کا لہجہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



