ایران نے آبنائے ہرمز کے نیچے 7 انٹرنیٹ کیبلز کی نشاندہی کر کے 'نئے اہداف' کی دھمکی دی: کیا پاکستان کا انٹرنیٹ متاثر ہو سکتا ہے؟
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے نیچے سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز ہیں اور نئے اہداف کا اشارہ دیا۔ کیا کہا گیا اور پاکستان کے لیے اس کا مطلب۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں ایک نئی قسم کا خطرہ اٹھا دیا ہے: سمندر کے نیچے بچھی وہ کیبلز جو دنیا کا انٹرنیٹ لے کر چلتی ہیں۔
ایران نے کیا کہا
ایکسپریس ٹریبیون اور روئٹرز کے مطابق پیر 19 اکتوبر کو آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے کہا:
“آبنائے ہرمز کے نیچے سے سات بڑی انٹرنیٹ کیبلز گزرتی ہیں۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹرنیٹ اور تجارتی ڈیٹا کی ترسیل ان پر منحصر ہے، اور خبردار کیا کہ نئے ہتھیاروں کے ساتھ “نئے اہداف سامنے لائے جائیں گے”۔ روسی خبر ایجنسی تاس کے مطابق آئی آر جی سی کے ایک عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو “اس بار ہمارا جواب کہیں زیادہ سخت ہوگا” اور دنیا کو “شدید توانائی بحران” کا سامنا ہوگا۔
اس مہینے کے شروع میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا تھا کہ نئی جنگ میں تہران امریکہ سے منسلک سمندری کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، اور کہا: “ہم نے ابھی ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا۔”
اہم بات: یہ دھمکیاں ہیں، حملے نہیں۔ کسی کیبل کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں۔
کشیدگی کیوں زیادہ ہے
- تاس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔
- ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جون میں امریکہ اور ایران نے مذاکرات کے فریم ورک کے طور پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
- بعد میں سیکیورٹی ضمانتوں اور ہرمز سے جہاز رانی پر بات چیت ٹوٹ گئی، اور امریکہ نے 8 جولائی کو دوبارہ حملے شروع کیے۔
- منگل کو آئی آر جی سی نے آبنائے کے اوپر امریکی ایم کیو 9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
کیا پاکستان کا انٹرنیٹ متاثر ہو سکتا ہے؟
پاکستان کا بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک زیادہ تر کراچی پر اترنے والی سمندری کیبلز کے ذریعے آتا جاتا ہے، جو ملک کو خلیج، یورپ اور ایشیا سے جوڑتی ہیں۔ ان میں سے کچھ راستے خلیجی پانیوں سے یا ان کے قریب سے گزرتے ہیں۔ اگر خطے میں کیبلز کٹ جائیں تو پاکستان میں صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے یا بندش کا سامنا ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں کیبلز کی خرابی کے وقت ہوا۔
فی الحال کسی خلل کے آثار نہیں۔ لیکن یہ ایک اور وجہ ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری کیوں اہم ہے: آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ ایران مذاکرات بحال کرنے کی پاکستانی کوشش کے تحت آج تہران میں ہیں۔
بڑی تصویر
سمندری کیبلز انٹرنیٹ کی پوشیدہ ریڑھ کی ہڈی ہیں جو ملکوں کے درمیان زیادہ تر ڈیٹا لے کر جاتی ہیں۔ ایران کا پیغام یہ ہے کہ کسی بھی نئی جنگ میں لڑائی صرف سمندر یا فضا تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس انٹرنیٹ تک پہنچ سکتی ہے جس پر بینک، کاروبار اور عام لوگ روزانہ انحصار کرتے ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



