نیک ماں سے منظر چرانے والی اداکاری تک: سینئر اداکارائیں پاکستانی ڈراموں کو کیسے بدل رہی ہیں

صبا حمید، ثانیہ سعید، نادیہ افگن اور دیگر کو 2026 کے ڈراموں میں زیادہ جاندار کردار مل رہے ہیں، مگر مرکزی کردار شاذ و نادر۔ کیا بدلا اور کیا نہیں۔

Senior actresses in Pakistani dramas
تصویر: Asia News Network / Dawn

برسوں تک پاکستانی ڈرامے میں 45 سال سے زیادہ عمر کی اداکارہ کے لیے بس دو ہی کردار تھے: نیک ماں یا سازشی ساس۔ ڈان میں ملیحہ رحمان کے تفصیلی فیچر کے مطابق یہ صورتحال آخرکار بدل رہی ہے، اور اس سال کے ڈرامے اس کی مثالوں سے بھرے ہیں۔

وہ کردار جن پر بات ہو رہی ہے

  • صبا حمید نور جہاں میں، ایک حاکمانہ مزاج کی سربراہ جو خاندان کی سیاست پر قابض ہے، اور ڈاکٹر بہو میں۔
  • ثانیہ سعید آپ کی عزت میں، ایک ماں جو بیٹے پر اختیار رکھنے کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتا کرتی ہے۔
  • نادیہ افگن اے آر وائی کے درِ نجات میں شداں گجری کے روپ میں، اور تن من نیل و نیل، ایک اور پاکیزہ اور شرپسند میں۔
  • ارجمند رحیم شیر میں تاج بی بی کے روپ میں، ایک غیر شادی شدہ عورت جسے پرانا عشق ستاتا ہے۔
  • سویرا ندیم بسمل میں، بے وفا شوہر کا سامنا کرتی ہوئی۔
  • حنا خواجہ بیات ایک اور پاکیزہ اور کیس نمبر 9 میں۔
  • سکینہ سموں اور تزین حسین قرضِ جاں میں، دو بالکل مختلف عورتوں کے کرداروں میں۔

اداکارائیں کیا کہتی ہیں

  • نادیہ افگن: نئی نسل کے لکھاریوں کی بدولت سینئر کرداروں میں اب گہرائی اور پوری کہانی ہوتی ہے۔
  • ارجمند رحیم: رات 8 بجے کے پرائم ٹائم ڈرامے سینئر خواتین کو بہتر کردار دیتے ہیں، لیکن 7 اور 9 بجے کے سیریل اب بھی ایک ہی سانچے کے ہیں۔ وہ اسے “سست لکھائی” کا نتیجہ کہتی ہیں۔
  • عتیقہ اوڈھو: تجربہ کار اداکاراؤں کو اب پختہ اور چیلنجنگ کردار، یہاں تک کہ ٹائٹل رول بھی مل رہے ہیں۔
  • بشریٰ انصاری کم مطمئن ہیں: ان کے مطابق زیادہ تر سینئر کردار اب بھی یکسانیت کا شکار ہیں، اور بزرگ عورت کو عموماً ظالم کے روپ میں دکھایا جاتا ہے۔

یہ کیوں ہو رہا ہے

فیچر چند وجوہات بتاتا ہے:

  • اسٹریمنگ پر عالمی شوز دیکھنے والے ناظرین اب پیچیدہ کرداروں کی توقع رکھتے ہیں۔
  • ہر نسل کو اچھی کہانی دینے والے ملٹی کاسٹ ڈرامے پرائم ٹائم میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
  • سینئر کرداروں کے تیکھے مکالموں کے کلپس وائرل ہوتے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ ان کے لیے اچھی لکھائی ناظرین کھینچتی ہے۔
  • حقیقی زندگی میں 50 کی دہائی کی خواتین کام کرتی ہیں، سفر کرتی ہیں اور اپنی زندگی خود چلاتی ہیں، اور ناظرین یہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

کیا نہیں بدلا

سینئر خواتین کو اب بھی بنیادی طور پر ماں، ساس اور دادی نانی کے طور پر ہی دکھایا جاتا ہے۔ پاکستانی ڈرامے شاذ و نادر ہی انہیں سیاست یا کاروبار میں، دیرپا دوستیوں میں یا 50 کے بعد محبت میں دکھاتے ہیں، جبکہ سینئر مرد اداکار اب بھی اپنے سے بہت کم عمر ہیروئنوں کے ساتھ رومانوی ہیرو بنتے ہیں۔

فیچر ہمارے لیے ایک جائز سوال چھوڑتا ہے: 55 سالہ عورت کب کہانی کی ہیرو بنے گی، نہ کہ صرف بہترین معاون کردار؟

ذرائع

  1. Dawn via Asia News Network: We're finally seeing older women shine in Pakistani dramas but when will they take centre stage?

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں