اے آر وائی کے ڈرامے پاکستان میں یوٹیوب سے غائب: اب اے آر وائی پلس پر کیسے دیکھیں
17 ستمبر سے پاکستان میں اے آر وائی ڈیجیٹل کے پریمیم ڈرامے دیکھنے کے لیے اے آر وائی پلس ایپ ضروری ہے۔ جانیے کیا بدلا اور اس کی قیمت کیا ہے۔

اگر آپ یوٹیوب پر درِ نجات کی تازہ قسط ڈھونڈ رہے ہیں اور نہیں مل رہی، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ 17 ستمبر سے اے آر وائی ڈیجیٹل نے پاکستان کے ناظرین کے لیے اپنے پریمیم ڈرامے آفیشل یوٹیوب چینل پر دکھانا بند کر دیے ہیں اور اب یہ ڈرامے اس کی اپنی ایپ اے آر وائی پلس پر دستیاب ہیں۔
اصل میں کیا بدلا ہے
اے آر وائی ڈیجیٹل نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اس کے ڈراموں کی نئی اقساط آن لائن صرف اے آر وائی پلس پر ملیں گی۔ اس فیصلے کے دائرے کے بارے میں رپورٹس میں تھوڑا فرق ہے: ڈان کے مطابق یہ پریمیم اور منتخب ڈراموں پر لاگو ہے، جبکہ کچھ دوسرے اداروں نے اسے یوٹیوب سے مکمل دوری قرار دیا۔ خبروں میں چینل کے دو بڑے ڈراموں درِ نجات اور بس تیرا ساتھ ہو کا خاص ذکر آیا۔
یہ تبدیلی صرف پاکستان کے اندر ہے۔ ڈان کے مطابق بیرونِ ملک ناظرین یہ ڈرامے اب بھی یوٹیوب پر مفت دیکھ سکتے ہیں، جس سے چینل کو عالمی اشتہارات کی آمدن اور نئے ناظرین ملتے رہتے ہیں۔
کیا اے آر وائی پلس مفت ہے؟
فی الحال ہاں۔ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا اور استعمال کرنا مفت ہے۔ اب تک صرف ایک چیز کے پیسے لیے جا رہے ہیں: رئیلٹی شو تماشا کی ان کٹ لائیو فیڈ، جس کی قیمت پاکستان میں 100 روپے اور بیرونِ ملک ایک ڈالر ہے۔
اے آر وائی کا کہنا ہے کہ ایپ پہلے ہی مقبول ہے۔ ڈان میں دیے گئے کمپنی کے اپنے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق باقاعدہ لانچ سے پہلے ہی ایپ ایک کروڑ آٹھ لاکھ بار ڈاؤن لوڈ ہو چکی تھی اور اوسطاً 25 منٹ دیکھی جا رہی تھی۔ لیکن ڈاؤن لوڈ ہونا اور مستقل ناظرین بننا دو الگ باتیں ہیں، اور اصل امتحان یہی ہے۔
اے آر وائی ایپ کو کیا بنانا چاہتا ہے
اے آر وائی ڈیجیٹل کے سی ای او سلمان اقبال نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ اس ایپ پر تین سے چار سال سے کام ہو رہا تھا، اور انہوں نے اسے “پاکستان کا اپنا او ٹی ٹی اسٹریمنگ پلیٹ فارم” قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ بنیادی طور پر اردو ڈراموں کا نیٹ ورک ہے، جس پر اے آر وائی نیوز اور جیتو پاکستان بھی دستیاب ہوں گے۔
دو منصوبے خاص طور پر اہم ہیں۔ عام صارفین اور آزاد پروڈیوسر اپنے ڈرامے اور ویڈیوز خود اپ لوڈ کر سکیں گے، اور اے آر وائی کے مطابق رائلٹی کا نظام لایا جا رہا ہے تاکہ تخلیق کاروں کو اس وقت تک آمدن ملتی رہے جب تک ان کا ڈرامہ چلتا رہے۔
ناظرین ناخوش کیوں ہیں
ہر کوئی اس فیصلے سے مطمئن نہیں۔ خبر آنے پر بہت سے مداحوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ایک اور ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بجائے ڈرامے دیکھنا ہی چھوڑ دیں گے، اور کچھ کو خدشہ ہے کہ اے آر وائی پلس فون اور اسمارٹ ٹی وی پر یوٹیوب جتنی آسان نہیں ہوگی۔ اے آر وائی ڈیجیٹل کے یوٹیوب چینل کے چھ کروڑ اسی لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں، اور ڈان کے ایک تجزیے میں کہا گیا کہ پاکستانی ڈراموں کو اتنی بڑی مقبولیت یوٹیوب ہی نے دلائی تھی۔
اب کیسے دیکھیں
- اپنے فون کے ایپ اسٹور سے اے آر وائی پلس ڈاؤن لوڈ کریں (“ARY Plus” تلاش کریں)۔
- اپنا پسندیدہ ڈرامہ کھولیں؛ نئی اقساط ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد وہاں آ جاتی ہیں۔
- ٹی وی پسند ہے؟ اقساط اب بھی اے آر وائی ڈیجیٹل چینل پر اپنے معمول کے وقت پر نشر ہوتی ہیں۔
کیا یہ پاکستانی ڈراموں کا نیا معمول بنے گا؟ اس کا فیصلہ ناظرین کریں گے۔ اگر اے آر وائی پلس اپنے ناظرین برقرار رکھ پائی تو حیران نہ ہوں اگر دوسرے چینل بھی یہی راستہ اپنائیں۔
ذرائع
- Dawn Images: Certain dramas to stream exclusively on streaming app from Sept 17
- Dawn Images: Millions watch ARY dramas for free on YouTube but would they switch to ARY Plus for them?
- ARY News: Salman Iqbal details the vision behind ARY Plus
- Minute Mirror: ARY faces backlash over stopping drama uploads on YouTube
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



