درِ نجات کے نکاح کے سین میں بھارتی جیولر کا شاپنگ بیگ؟ ناظرین کے مزیدار تبصرے
اے آر وائی کے ڈرامے درِ نجات میں انگوٹھیوں کے تبادلے کے دوران ناظرین نے مالابار گولڈ کا بیگ دیکھ لیا، اور میمز شروع ہو گئیں۔

پاکستانی ڈراموں کے مداح ہر چیز نوٹ کرتے ہیں، اور اس بار باری تھی ایک شاپنگ بیگ کی۔
اے آر وائی ڈیجیٹل کے مقبول ڈرامے درِ نجات میں ابوبکر اور زریاب کے نکاح کے دوران جب دونوں انگوٹھیاں بدل رہے تھے، تو ناظرین نے پس منظر میں مالابار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز کا بیگ دیکھ لیا۔ مالابار بھارتی ریاست کیرالہ کا مشہور جیولری برانڈ ہے۔ یہ کلپ انسٹاگرام پر پھیلا اور مذاق شروع ہو گیا۔
لوگوں نے کیا کہا
ڈیلی پاکستان کی 7 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق:
- بہت سے ناظرین نے پوچھا کہ ایک پاکستانی ٹی وی پروڈکشن میں بھارتی جیولری برانڈ اتنا نمایاں کیوں ہے، اور کیا کوئی مقامی برانڈ دستیاب نہیں تھا۔
- دوسروں نے مذاق کیا کہ زیورات تو اے آر وائی گولڈ بھی دے سکتا تھا۔ آخر اے آر وائی ٹی وی نیٹ ورک بننے سے پہلے سونے کا ہی کاروبار تھا۔
کیا یہ اشتہار تھا؟
شاید نہیں، لیکن ابھی تک کسی نے وضاحت نہیں کی۔
- کسی اسپانسرشپ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایسی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی کہ مالابار نے یہ سین اسپانسر کیا، زیورات دیے یا ڈرامے کے ساتھ کوئی شراکت کی۔ پس منظر میں ایک بیگ کسی معاہدے کا ثبوت نہیں۔
- مالابار کا پاکستان میں کوئی باقاعدہ اسٹور نہیں۔ کمپنی پہلے یہ بات کہہ چکی ہے۔ 2023 میں اسلام آباد کی ایک دکان بغیر اجازت مالابار کا نام اور لوگو استعمال کرتی پائی گئی تھی، اور حکام نے برانڈنگ ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
سب سے ممکنہ وضاحت سب سے سادہ ہے: سیٹ پر ایک پراپ بیگ جس پر کسی نے غور نہیں کیا۔ جب تک پروڈکشن ٹیم یا اے آر وائی کچھ نہیں کہتے، یہ صرف اندازہ ہے۔
بات اتنی بڑھی کیوں
عمیرہ احمد کا لکھا اور ثاقب خان کا ڈائریکٹ کیا ہوا درِ نجات اس وقت سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ڈراموں میں سے ہے، اس لیے ہر بڑا سین بار بار دیکھا جاتا اور اس کے اسکرین شاٹ لیے جاتے ہیں۔ اور شادی کا سین تو سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
وقت نے بھی کردار ادا کیا۔ مالابار کو اکتوبر 2025 سے بھارت میں ایک پاکستانی نژاد انفلوئنسر کے ساتھ ایک الگ تعاون پر بائیکاٹ مہم کا سامنا ہے، اس لیے پاکستانی ڈرامے میں اس کا بیگ نظر آنا سرحد کے دونوں طرف لوگوں کو ایک اور دلچسپ موڑ لگا۔
پاکستانی پروڈکشن ٹیموں کے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ اب ناظرین ویڈیو روکتے ہیں، زوم کرتے ہیں اور شیئر کرتے ہیں۔ پراپس ضرور چیک کریں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



