وسیم عباس کیس: ملتان کے یتیم بچے کی موت، ملزم کی ہلاکت اور انصاف کے مطالبے، اب تک کیا معلوم ہے

بجلی کا کام سیکھنے بھیجا گیا 15 سالہ یتیم ملتان میں گاڑی تلے کچل دیا گیا۔ مرکزی ملزم بعد میں پولیس 'مقابلے' میں مارا گیا۔ مکمل ٹائم لائن۔

وسیم عباس کیس
تصویر: Digital Akhbaar graphic

ملتان کے 15 سالہ یتیم وسیم عباس کی موت نے اس ہفتے پورے پاکستان کو ہلا دیا ہے۔ فنکار، سیاستدان اور عام لوگ ایک ہی سوال کر رہے ہیں: جو بچہ محفوظ دیکھ بھال میں ہونا چاہیے تھا، اس کے ساتھ یہ کیسے ہوا؟

اب تک جو رپورٹ ہوا ہے وہ یہ ہے۔ کیس زیرِ تفتیش ہے اور الزامات کا فیصلہ عدالت نے نہیں کیا۔

وسیم کون تھا؟

جیو نیوز کے مطابق وسیم کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا۔ والد کی وفات کے بعد وہ چھ سال سے ملتان کے دارالخدا یتیم خانے میں رہ رہا تھا۔ موت سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے یتیم خانے نے اسے بجلی کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا۔

17 اکتوبر کو کیا ہوا؟

ایکسپریس ٹریبیون اور جیو کے مطابق کام کے دوران جھگڑے کے بعد وسیم نے وہاں سے جانے کی کوشش کی۔ پولیس کا الزام ہے کہ توقیر اور اس کے ساتھی امجد علی نے گاڑی میں تقریباً ایک کلومیٹر تک اس کا پیچھا کیا اور اسے کچل دیا۔ سی سی ٹی وی میں مبینہ طور پر بچہ بھاگتا نظر آتا ہے۔ سر پر شدید چوٹ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔

ہم نیوز کے مطابق ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ گاڑی نے وسیم کو ایک گھر کے ستون سے ٹکرا دیا اور ایک عینی شاہد نے توقیر کو موقع پر پکڑ لیا۔ توقیر نے بعد میں ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ بچے کو روکنے کی کوشش میں گاڑی “پھسل گئی”۔ پولیس نے اسے جان بوجھ کر قتل قرار دے کر مقدمہ درج کیا۔

ملزم کی موت

توقیر گرفتار ہوا۔ پھر ہم نیوز کے مطابق کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ منگل کی رات حراست سے فرار ہوا اور اگلے دن بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار دو افراد نے فائرنگ کی، دوسرا فرار ہو گیا۔ فرار اور ہلاکت کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

وسیم کی والدہ نے ملزم کی موت کی فوٹیج دکھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: “اگر یہ ہم سے جھوٹ بول رہے ہوں کہ وہ مر گیا؟”

پولیس کے مطابق امجد کی تلاش میں فیصل آباد میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور یتیم خانے سے بھی پوچھ گچھ ہو رہی ہے کہ وسیم کو کام پر کیسے بھیجا گیا۔

ردعمل

  • پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز خود کیس کی نگرانی کر رہی ہیں۔
  • خواجہ سعد رفیق نے سوال کیا کہ وسیم کو فوری طبی امداد کیوں نہیں ملی، اور بچوں کو کام پر بھیجنے والے یتیم خانوں کے آڈٹ کا مطالبہ کیا۔
  • اداکار یمنیٰ زیدی، مشی خان، احسن خان، سحر خان، فیضان شیخ اور فائزہ خان نے انصاف کا مطالبہ کیا۔ مشی خان نے کہا: “ظالم لوگ اللہ کے قہر سے ڈریں”، جبکہ فائزہ خان نے کہا کہ یہ “قانون کی حکمرانی نہ ہونے” کا نتیجہ ہے۔

بڑے سوالات

یہ کیس ایک ملزم سے آگے کے سوال اٹھاتا ہے: یتیم خانے کی دیکھ بھال میں موجود 15 سالہ بچے کو کام پر کیوں بھیجا گیا، اس کی خبر کون رکھ رہا تھا، اور ملزمان مقدمے سے پہلے پولیس “مقابلوں” میں کیوں مارے جاتے ہیں، جس سے خاندان مکمل جواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ذرائع

  1. The Express Tribune: Pakistani celebrities react as death of 15-year-old Waseem Abbas in Multan sparks calls for justice
  2. Geo News: Celebs demand justice as killing of Multan orphan teen sparks outrage
  3. Hum News: Waseem Abbas case: mother of Multan teen seeks proof of suspect's death

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں