'بدر' معاہدہ کیا ہے؟ پاکستان، ترکی، قطر اور انڈونیشیا مل کر ہتھیار بنائیں گے

چار مسلم ممالک نے دوحہ میں دفاعی صنعت کا معاہدہ کیا۔ یہ فوجی اتحاد نہیں، لیکن پاکستان کی دفاعی پیداوار بدل سکتا ہے۔

Defence ministers of Turkey, Qatar, Pakistan and Indonesia at the Badr signing in Doha
تصویر: TRT World

“بدر دفاعی تعاون معاہدہ” اس ہفتے پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ ہونے والے موضوعات میں رہا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اصل میں کیا طے پایا اور اس کا کیا مطلب ہے اور کیا نہیں۔

کیا دستخط ہوئے؟

بدھ 21 اکتوبر کو ترکی، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے دفاع نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں “بدر” نامی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

ٹی آر ٹی ورلڈ اور الورا نیوز کے مطابق دستخط کرنے والوں میں شامل تھے:

  • ترکی: وزیر دفاع یاشار گولر، دفاعی صنعت کے سربراہ ہالوک گورگن کے ساتھ
  • قطر: نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن آل ثانی
  • پاکستان: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور وزیر دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج
  • انڈونیشیا: نائب وزیر دفاع یوسف جوہری

اس میں کیا شامل ہے؟

بدر مل کر ہتھیار اور ٹیکنالوجی بنانے کا معاہدہ ہے، مل کر لڑنے کا نہیں۔ مقاصد یہ بتائے گئے ہیں:

  • مشترکہ فوجی پیداوار اور صنعتی صلاحیتیں یکجا کرنا،
  • مشترکہ تحقیق و ترقی،
  • فوجی تکنیکی تربیت میں تعاون،
  • بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کرنا اور “اتحادی اور دوست ممالک” کو سامان فراہم کرنا۔

قطر نیوز ایجنسی کے مطابق بعد میں دیگر دوست ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ابھی کوئی منصوبہ، بجٹ یا ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔

یہ کیا نہیں ہے؟

سوشل میڈیا پر یہی بات سب سے زیادہ غلط سمجھی جا رہی ہے۔ بدر کوئی فوجی اتحاد نہیں اور کسی ملک کو دوسرے کے دفاع کا پابند نہیں کرتا۔ الورا نیوز کے مطابق تجزیہ کار اسے “ایک متحد فوجی بلاک کے بجائے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے سیکیورٹی اور صنعتی تعلقات” کہتے ہیں۔

یہ اگست میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے مختلف ہے جس میں ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستان پہلے ہی ٹینک، جے ایف 17 جیسے طیارے اور گولہ بارود بناتا ہے اور ترکی سے اس کے گہرے دفاعی تعلقات ہیں۔ ہر ملک کچھ نہ کچھ لاتا ہے:

  • ترکی کی بڑی صنعت ڈرون، بکتر بند گاڑیاں، بحری جہاز اور میزائل بناتی ہے۔
  • قطر کے پاس سرمایہ ہے اور وہاں ترکی کا فوجی اڈہ ہے۔
  • انڈونیشیا بڑا خریدار ہے اور 48 ترک کان لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔

اگر بدر سے حقیقی مشترکہ منصوبے بنے تو پاکستانی فیکٹریوں کو برآمدی آرڈر اور نئی ٹیکنالوجی مل سکتی ہے۔ فی الحال یہ کاغذ پر ایک فریم ورک ہے، اصل امتحان پہلا مشترکہ منصوبہ ہو گا۔

ذرائع

  1. TRT World: Türkiye, Qatar, Indonesia and Pakistan sign 'Badr' defence cooperation accord
  2. Allora News: Türkiye, Qatar, Pakistan and Indonesia sign major defence cooperation agreement

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں