آئی ایم ایف: پاکستان سمیت خطے کی معیشت 1.3 فیصد سکڑے گی؛ عالمی بینک: آمدنی تین گنا ہو سکتی ہے
ایک ہی دن دو بڑی رپورٹس آئیں: ایک ایران جنگ کے نقصان سے خبردار کرتی ہے، دوسری کہتی ہے کہ تیز اصلاحات سے پاکستان ویتنام کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔

22 اکتوبر کو دو عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معیشت پر رپورٹس جاری کیں، اور سرخیاں بظاہر الٹی سمت میں جاتی دکھائی دیتی ہیں۔ دونوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
آئی ایم ایف: ایران جنگ کا دھچکا
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، جو عرب نیوز اور ڈان میں شائع ہوئی، آئی ایم ایف کے علاقائی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کی مجموعی پیداوار 2026 میں 1.3 فیصد سکڑے گی اور 2027 میں 6.6 فیصد ترقی کرے گی۔
اہم نکتہ: 1.3 فیصد علاقائی عدد ہے جس میں پاکستان کے ساتھ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ شامل ہیں۔ کچھ سرخیوں میں اسے صرف پاکستان کا عدد بتایا گیا، لیکن رائٹرز کی رپورٹ میں پاکستان کا الگ عدد نہیں دیا گیا۔
آئی ایم ایف اس کمی کا ذمہ دار ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کو ٹھہراتا ہے، جس نے توانائی، جہاز رانی، سیاحت، تجارت اور اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک ترسیلاتِ زر اور بروقت پالیسی اقدامات کی وجہ سے بہتر رہے۔
آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ 2027 کے شروع میں جنگ کم ہو جائے گی، لیکن وہ “غیر معمولی بے یقینی” سے خبردار کرتا ہے، اور سب سے بڑا خطرہ توانائی اور تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹ ہے۔
عالمی بینک: ‘ایسکیپ ولاسٹی’
اسی دن عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپڈیٹ جاری کی جس کا عنوان “اٹیننگ ایسکیپ ولاسٹی” ہے۔ آج نیوز اور پرو پاکستانی کے مطابق:
- مالی سال 26 میں معیشت 3.7 فیصد بڑھی، جو پچھلے سال 3.2 فیصد تھی۔
- حکومت نے جی ڈی پی کے 2.9 فیصد کا ریکارڈ پرائمری سرپلس حاصل کیا۔
- بجلی کے نرخوں میں تبدیلی کے بعد توانائی سبسڈی 1.1 سے کم ہو کر 0.8 فیصد رہ گئی۔
- پاکستان نے 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا اور ایس اینڈ پی اور موڈیز نے ریٹنگ بہتر کی۔
بڑی خبر: اگر پاکستان اصلاحات تیز کرے تو ترقی کی شرح 6.2 سے 6.9 فیصد سالانہ ہو سکتی ہے اور 2050 تک آمدنی تقریباً تین گنا ہو سکتی ہے، یعنی آج کے ویتنام کے برابر۔
لیکن فی کس حقیقی آمدنی صرف 1.6 فیصد سالانہ بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے موجودہ سے کہیں تیز ترقی درکار ہے۔
عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ “پاکستان نے استحکام کی بحالی میں حقیقی پیش رفت کی ہے اور منڈیوں نے اسے محسوس کیا ہے”۔ بینک بہتر کاروباری ماحول، ٹیکس اصلاحات، معیشت میں ریاست کا کم کردار اور قرضوں تک آسان رسائی چاہتا ہے۔
آپ کے لیے اس کا مطلب
خلاصہ یہ کہ پاکستان کی معیشت دو سال پہلے سے زیادہ مستحکم ہے، لیکن اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہی کہ عام گھرانے خود کو خوشحال محسوس کریں۔ ایران جنگ سب سے بڑا بیرونی خطرہ ہے، خاص طور پر تیل، پیٹرول اور بجلی کے بلوں کے ذریعے۔
2050 تک آمدنی تین گنا کرنا کاغذ پر ممکن ہے، لیکن صرف ان اصلاحات سے جو ماضی کی حکومتیں بار بار شروع کر کے چھوڑتی رہی ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



