عرفی جاوید نے شہریار منور کو سراہا: "ابوبکر! کیا انسان ہو"، درِ نجات بھارت میں مقبول
بھارتی اسٹار عرفی جاوید نے درِ نجات میں شہریار منور کے کردار ابوبکر کی تعریف کی اور یاد کیا کہ مشہور ہونے سے پہلے دبئی میں وہ ان سے کتنی شفقت سے ملے تھے۔


بھارتی ریئلٹی اسٹار اور انفلوئنسر عرفی جاوید بھی اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے “درِ نجات” کے ان بھارتی ناظرین میں شامل ہو گئی ہیں جو اس کے دیوانے ہیں۔ اے آر وائی نیوز اور 24 نیوز کے مطابق انہوں نے انسٹاگرام پر تازہ قسط سے شہریار منور کی ایک فین ایڈٹ شیئر کی اور لکھا “ابوبکر! کیا انسان ہو”، پھر برسوں پرانی ایک ملاقات کا قصہ سنایا جس پر پاکستانی مداح خوش ہو گئے۔
عرفی جاوید نے کیا کہا؟
اے آر وائی نیوز کے مطابق عرفی نے بتایا کہ وہ اور شہریار دونوں فلم فیئر مڈل ایسٹ ایوارڈز کے لیے دبئی میں تھے اور ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ تب وہ زیادہ مشہور نہیں تھیں۔ وہ ان کے پاس تصویر کے لیے گئیں، اور شہریار نے جلدی سے تصویر کھنچوا کر جانے کے بجائے ان سے تقریباً 10 سے 15 منٹ بات کی۔ عرفی کے مطابق وہ “انتہائی مہربان اور خوش اخلاق” تھے۔
ان کے کیپشن کی آخری سطر میں یہ بات تھی کہ چھوٹی سی مہربانی لوگوں پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ 24 نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بھی پوچھا: “کون ہے جو درِ نجات نہیں دیکھ رہا؟”
ابوبکر کا کردار بھارتی ناظرین کو کیوں بھا رہا ہے؟
شہریار درِ نجات میں ابوبکر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈرامہ عمیرہ احمد نے لکھا، ہدایت کاری ثاقب خان کی ہے اور پروڈکشن تھریز انٹرٹینمنٹ کی، جبکہ کاسٹ میں درِ فشاں سلیم، ثانیہ سعید، صبا حمید، سحر ہاشمی اور رومیسہ خان شامل ہیں۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق اس کردار نے پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور خاص طور پر بھارت میں ناظرین کو اپنی طرف کھینچا ہے۔
ریویو اٹ کے مطابق ابوبکر چیختے چلاتے ہیروز کے درمیان ایک پرسکون اور نرم مزاج آدمی ہے، اور یہی نرمی اس کی کشش ہے۔ عرفی کی پوسٹ اب تک کے سب سے نمایاں بھارتی ردعمل میں سے ایک ہے، اور وہ بھی ایک ایسی شخصیت کی طرف سے جو عام طور پر ٹی وی ڈراموں کی تعریف کے لیے نہیں جانی جاتیں۔
پاکستانی مداحوں کا ردعمل
ریویو اٹ کے جمع کیے گئے کمنٹس زیادہ تر محبت بھرے اور تھوڑے سے حفاظتی تھے۔ ایک مداح نے اداکار کا نک نیم استعمال کرتے ہوئے لکھا “ہمارے شیری کو چھوڑ دو”۔ ایک اور نے کہا کہ ہمارا ابوبکر سرحد پار بھی ویسا ہی ہے، اور تیسرے نے مذاقاً لکھا کہ شہریار دونوں ملکوں کو قریب لے آئیں گے۔
شہریار منور کی جانب سے اب تک کوئی عوامی جواب سامنے نہیں آیا۔
بڑی تصویر
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بھارتی سیلیبرٹی نے کھل کر پاکستانی ڈرامے کی تعریف کی ہو؛ اے آر وائی نیوز کے مطابق شہناز گل نے بھی “میری زندگی ہے تو” کو سراہا تھا۔ پاکستانی ڈرامے بھارتی ناظرین تک زیادہ تر یوٹیوب کے ذریعے پہنچتے ہیں، جہاں اے آر وائی ڈیجیٹل درِ نجات کی اقساط انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ اپلوڈ کرتا ہے۔ قسط 24، جو اوپر موجود ہے، 22 اکتوبر کو اپلوڈ ہوئی۔
ذرائع
- ARY News: Urfi Javed recalls 10-minute conversation with Sheheryar Munawar in Dubai
- 24 News: 'Abu Bakar the man you are', Urfi Javed praises Dar-e-Nijaat star Sheheryar Munawar
- Reviewit.pk: Urfi Javed recalls a heartfelt meetup with Sheheryar Munawar
- Minute Mirror: Urfi Javed recalls heartfelt meeting with Sheheryar Munawar in Dubai
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



