پیپے ایسکوبار کا تجزیہ: عاصم منیر تہران کیا لے کر گئے، اور کون سی باتیں ثابت نہیں
ٹرانزیشن پروٹوکول پر پیپے ایسکوبار کا کہنا ہے کہ منیر آئی اے ای اے کے بدلے رقم کی پیشکش لے گئے جو ایران قبول نہیں کرے گا۔ ان کا مؤقف اور حقائق۔


برازیلی صحافی پیپے ایسکوبار پاکستان میں ایران جنگ پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے تبصرہ نگاروں میں سے ہیں، خاص طور پر ذوالفقار علی کے چینل ٹرانزیشن پروٹوکول پر۔ ان کی تازہ ترین قسط 20 اکتوبر کو آئی، جس کا موضوع فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران ہے۔
یہ تجزیہ اور رائے ہے، خبر نہیں۔ نیچے ہم نے ایسکوبار کے دلائل اور مصدقہ حقائق کو الگ الگ رکھا ہے۔
ایسکوبار کیا کہتے ہیں؟
قسط کے شائع شدہ نوٹس اور انکٹ نیوز پر انٹرویو کے جرمن خلاصے کے مطابق:
- پیشکش: ایسکوبار کے مطابق منیر یہ تجویز لے کر گئے کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کار “خاموشی سے” ایران واپس آئیں، اور بدلے میں ایران کو قطر میں موجود تقریباً 6 ارب ڈالر پر صرف سود ملے۔
- ایران کا جواب: ان کا خیال ہے کہ تہران انکار کرے گا، کیونکہ یہ پیشکش اتنی کم ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اسے قبول نہیں کریں گے۔ ایران ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد رقم کی واپسی اور پابندیاں ہٹوانا چاہتا ہے، جو ان کے مطابق واشنگٹن نہیں مانے گا۔
- امریکی وقت: ان کی رائے میں واشنگٹن 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے پہلے ایران سے کوئی رعایت چاہتا ہے۔
- پاکستان پر دباؤ: ان کا کہنا ہے کہ پابندیاں، آئی ایم ایف اور سرحدی گزرگاہیں پاک ایران تجارت کو متاثر کر رہی ہیں؛ گزرگاہیں دن میں بند اور رات کو خراب ہونے والی اشیا کے لیے کھلتی ہیں۔ وہ روس کی طرح بارٹر تجارت کا مشورہ دیتے ہیں۔
- سعودی عرب اور یمن: پروگرام کے میزبان ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان پر حوثیوں کو قائل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور اسلام آباد ایسا نہیں کرے گا۔ ایسکوبار کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان اور ترکی کو یمن کی جنگ میں کھینچنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ پاکستان یمن میں فوج کی موجودگی کی تردید کرتا ہے۔
- بلوچستان: وہ ایک ممکنہ منظرنامہ پیش کرتے ہیں کہ بیرونی طاقتیں پاک ایران سرحد پر گڑبڑ کرا سکتی ہیں، اور خود اسے امکان کہتے ہیں، حقیقت نہیں۔
ریکارڈ کیا کہتا ہے؟
- منیر واقعی 20 اکتوبر کو تہران گئے اور صدر پزشکیان، اسپیکر قالیباف اور سیکیورٹی چیف محسن رضائی سے ملے۔
- رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے کہا کہ مطالبات پورے ہونے تک مذاکرات نہیں ہوں گے اور امریکی انتخابات سے پہلے بریک تھرو کا امکان کم ہے۔ یہ ایسکوبار کی پیش گوئی سے میل کھاتا ہے۔
- ایک عربی اخبار نے 6 ارب ڈالر کے سود اور جوہری رسائی والی تجویز کی خبر دی، لیکن کسی سرکاری عہدیدار نے تصدیق نہیں کی۔
- قسط کے اپنے نوٹس کے مطابق سرحد کے قریب تین بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں اور نجران کے وفد جیسی تفصیلات عوامی رپورٹنگ میں نہیں ملیں۔ میزبان کے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ذرائع کی باتیں بھی آزادانہ طور پر جانچی نہیں جا سکتیں۔
ہماری رائے
بڑی تصویر سمجھنے کے لیے ایسکوبار کو سننا فائدہ مند ہے کہ روس، چین، ایران اور خلیج اس جنگ کو کیسے دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ کھل کر ایران اور روس کے ہمدرد ہیں، اور ان پروگراموں میں مصدقہ حقائق کے ساتھ گمنام ذرائع اور پیش گوئیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ تجزیہ ضرور سنیں، لیکن واٹس ایپ پر آگے بھیجنے سے پہلے خبر کو مستند ذرائع سے ملا لیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



