واخان میں چینی گارڈز نے طالبان کو واپس بھیجا، جہاں کابل کی نئی سڑک باڑ پر ختم ہوتی ہے

طالبان نے پاکستان پر انحصار کم کرنے کے لیے چینی سرحد تک 121 کلومیٹر سڑک بنائی۔ وائرل کلپ بتاتا ہے کہ بیجنگ دروازہ کھولنے سے کتنا دور ہے۔

The Wakhan corridor in north-eastern Afghanistan near the Chinese border
تصویر: Lowy Institute

اس ہفتے گردش کرنے والی ایک مختصر ویڈیو افغانستان، چین اور بالواسطہ طور پر پاکستان کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔

ویڈیو

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق نئی سامنے آنے والی ویڈیو میں طالبان جنگجو واخان میں چینی سرحد کے ممنوعہ علاقے میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ چینی سرحدی محافظ انگریزی میں انہیں پیچھے ہٹنے کو کہتے ہیں۔ جب ایک جنگجو کہتا ہے کہ اسے انگریزی نہیں آتی تو گارڈز پشتو میں وارننگ دہراتے ہیں۔

ویڈیو کی تاریخ واضح نہیں اور چین یا طالبان کی جانب سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیا۔

سڑک جو باڑ پر ختم ہوتی ہے

یہ کلپ ایسے وقت آیا جب طالبان نے 4 اکتوبر 2026 کو بروغل سے چینی سرحد تک 121 کلومیٹر کچی سڑک کا افتتاح کیا۔ لووی انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس پر تقریباً 36 کروڑ 50 لاکھ افغانی (تقریباً 55 لاکھ ڈالر) خرچ ہوئے۔

لیکن سڑک عملاً چین کی باڑ پر رک جاتی ہے۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق چین نے سرحد پر خاردار تاروں کی دو تہیں، کیمرے اور سیکیورٹی ٹاورز لگا رکھے ہیں اور بیجنگ نے تجارت یا آمدورفت کے لیے راستہ کھولنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ افغان ٹرک ابھی چین نہیں جا سکتے۔

چین محتاط کیوں ہے؟

بنیادی وجہ سیکیورٹی ہے۔ چین کو خدشہ ہے کہ شدت پسند، خاص طور پر سنکیانگ سے جڑے گروہ، اس راستے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لووی کے مطابق بیجنگ مشترکہ گشت کی حمایت کرتا ہے لیکن تجارتی گزرگاہ کا وعدہ نہیں کیا۔

پاکستان کا پہلو

یہ پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ یہ سڑک جزوی طور پر پاکستان کے بارے میں ہے۔

افغانستان طویل عرصے سے تجارتی راستوں کے لیے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ اکتوبر 2025 کی لڑائی کے بعد سرحدیں بند ہوئیں تو سینکڑوں ٹرک پھنس گئے۔ لووی کے مطابق افغانستان کی 70 فیصد سے زیادہ ادویات پاکستان سے آتی تھیں۔ چین کا راستہ کابل کو اسلام آباد کے ساتھ تنازعات میں کم از کم کاغذ پر دباؤ کا ذریعہ دیتا ہے۔

حقیقت میں، کسٹم چوکی، کھلے دروازے اور چین کی رضامندی کے بغیر ایک پہاڑی کچی سڑک ابھی طورخم اور چمن کا متبادل نہیں۔

اس ہفتے یہ بھی

دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں طالبان پھر غیر حاضر رہے، جہاں تاجکستان کے صدر نے دہشت گردی اور منشیات کے خلاف مشترکہ کارروائی پر زور دیا۔

ذرائع

  1. Afghanistan International: Taliban fighters enter restricted zone along China border
  2. Lowy Institute, The Interpreter: Could the Taliban's new road to China drive negotiating power?

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں