نیتن یاہو کے نقشے میں پاکستان 'سنی ڈائمنڈ' اتحاد میں: نقشہ کیا دکھاتا ہے اور کہاں سے آیا؟
اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک نقشہ دکھایا جس میں پاکستان ترکی، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ اسرائیل اور یو اے ای کے 'ہیگزاگون' کے مقابل ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دکھایا گیا ایک نقشہ پاکستان میں وائرل ہو گیا ہے، کیونکہ اس میں پاکستان کو ایک مخالف بلاک کے بیچ میں دکھایا گیا ہے۔
نقشہ کہاں دکھایا گیا؟
نیتن یاہو نے 18 اکتوبر کو دو گھنٹے کی سیکیورٹی بریفنگ میں اسرائیل کی نئی قومی سلامتی پالیسی بیان کرتے ہوئے یہ نقشہ دکھایا۔ کئی بڑے اسرائیلی میڈیا اداروں نے بریفنگ کا بائیکاٹ کیا۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہیں۔
نقشے میں کیا ہے؟
نیوزویک کے مطابق نقشے کا عنوان “مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی اتحاد” ہے:
- نیلا: “اسرائیل-یو اے ای ہیگزاگون اتحاد”، جبکہ یونان، ایتھوپیا اور صومالی لینڈ دوست ممالک کے طور پر۔
- گہرا سبز: “سنی ڈائمنڈ اتحاد” یعنی پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر، جبکہ سوڈان، شام اور اردن دوست کے طور پر۔
- جامنی: ایران اور اس کا “محورِ مزاحمت”، روس اور عراق کے کچھ حصے دوست کے طور پر۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس سے سمجھ آتا ہے کہ نقشے میں انہیں اکٹھا کیوں دکھایا گیا۔
نقشہ نیتن یاہو نے نہیں بنایا
یہ نقشہ اسرائیل کا بنایا ہوا نہیں۔ اسے مئی 2026 میں جرمنی کے فریڈرک ایبرٹ فاؤنڈیشن نے شائع کیا تھا، جو جرمن جماعت ایس پی ڈی سے منسلک تھنک ٹینک ہے۔ نیتن یاہو نے اسے اپنی تقریر میں استعمال کیا۔
وہ پہلے بھی “اتحادوں کے ہیگزاگون” کی بات کر چکے ہیں جس میں بھارت، یونان اور قبرص شامل ہوں۔ انہوں نے کہا: “ہم نے مشرق وسطیٰ کو بدلا کیونکہ ہم نے خود کو بدلا۔”
ناقدین کیا کہتے ہیں؟
- کنگز کالج لندن کے آندریاس کریگ نے نیوزویک سے کہا کہ نقشہ “ان کی سوچ سے کہیں زیادہ بتا رہا ہے” کیونکہ یہ خطے کی بڑی طاقتوں سے اسرائیل کی تنہائی دکھاتا ہے۔
- بن گوریان یونیورسٹی کے یورام میتال نے نیتن یاہو کے بیانیے کو “انتہائی منتخب” قرار دیا۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے مخالف بلاک میں دکھایا جانا بذات خود نئی بات نہیں۔ نئی بات یہ ہے کہ ایک برسرِ اقتدار اسرائیلی رہنما نے کھلے عام پاکستان کو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ایک منظم سنی گروپ کا حصہ دکھایا۔ یہ پاکستان کے حالیہ دفاعی معاہدوں سے میل کھاتا ہے، مکہ معاہدے سے لے کر اس ہفتے کے بدر معاہدے تک۔
ابھی تک پاکستانی دفتر خارجہ کا کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اور یاد رہے، نقشے میں ایک رنگ میں دکھانے سے ممالک اتحادی نہیں بن جاتے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



