بھارت نے لداخ کے 28 مقامات کے نام رکھے، چین نے کہا 'ہم نے لداخ کو کبھی تسلیم نہیں کیا'

بھارت نے لداخ کی 28 چوٹیوں، دروں اور علاقوں کے نام رکھے تو چین نے اسے غیر قانونی کہا۔ تنازع کیا ہے اور پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟

Mountains in Ladakh along the India-China border
تصویر: The Business Standard

چین اور بھارت کے درمیان نقشوں کی جنگ پھر چھڑ گئی ہے، اس بار لداخ پر، جہاں 2020 میں دونوں ملکوں کے فوجیوں میں جھڑپ ہوئی تھی۔

کیا ہوا؟

  • 2 اکتوبر: بھارتی وزارت داخلہ نے لداخ کے 28 مقامات کے سرکاری نام جاری کیے جن میں چوٹیاں، درے اور علاقے شامل ہیں، اور انہیں سروے آف انڈیا کے نقشے میں شامل کیا۔
  • 13 اکتوبر: چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ “چین نے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر بنائے گئے نام نہاد ‘یونین ٹیریٹری لداخ’ کو کبھی تسلیم نہیں کیا”، اور بھارت کا اقدام “غیر قانونی اور کالعدم” ہے۔
  • بھارت کا جواب: بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ لداخ بھارت کا “اٹوٹ حصہ” ہے اور چین کے انکار سے یہ حقیقت نہیں بدلتی۔

یہ جیسے کو تیسا والا معاملہ ہے۔ چین 2017 سے اروناچل پردیش کے کئی مقامات کو چینی نام دے چکا ہے جسے وہ “جنوبی تبت” کہتا ہے۔ اس سال اگست میں بھارت نے اروناچل کے 27 ناموں کی فہرست جاری کی اور اب لداخ کی۔

وقت کیوں اہم ہے؟

تعلقات آہستہ آہستہ بہتر ہو رہے تھے۔ دی فیڈرل میں 18 اکتوبر کو شائع اپنے کالم میں صحافی سبیر بھومک لکھتے ہیں کہ دہلی میں برکس سربراہی اجلاس میں شی جن پنگ کی شرکت کے بعد تعلقات بہتر ہوتے دکھائی دے رہے تھے، لیکن سرحدی تنازع بار بار پیش رفت پر پانی پھیر دیتا ہے۔ ان کے مطابق چین اکسائی چن کے تقریباً 38 ہزار مربع کلومیٹر پر قابض ہے جس کا دعویٰ بھارت کرتا ہے، اور پرانے معاہدے ڈوکلام (2017) اور گلوان (2020) کے تصادم نہیں روک سکے۔

پروین ساہنی کیا کہتے ہیں؟

بھارتی فوج کے سابق افسر اور فورس میگزین کے ایڈیٹر پروین ساہنی برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ بھارت چین کو کم سمجھتا ہے۔ ان کے یوٹیوب تجزیے پاکستان میں بھی بہت دیکھے جاتے ہیں، اور اس ہفتے ان کے نام سے ایک ہندی ویڈیو میں بھی لداخ پر چین کے دعوے پر بات کی گئی۔

2020 کی جھڑپوں کے بعد سے ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ لداخ بحران نے بھارت کو سرحد سے کہیں آگے نقصان پہنچایا۔ دی نیوز کے مطابق 2020 کے ایک ویبینار میں انہوں نے کہا تھا کہ اس سے بھارت کے تمام ہمسایوں سے مسائل پیدا ہوئے، بیجنگ اور اسلام آباد مزید قریب آئے اور سی پیک تیز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہمسایوں سے “اصولی رابطے کی کمی” کو وجہ قرار دیا۔ 2022 کی اپنی کتاب دی لاسٹ وار میں انہوں نے لکھا کہ بھارت چین کی جدید فوج کے مقابلے میں غلط قسم کی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ ان کی رائے ہے، اور بہت سے بھارتی حکام اور تجزیہ کار اس سے سخت اختلاف کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اہمیت

لداخ کی سرحد گلگت بلتستان سے ملتی ہے، اور چین اور پاکستان قریبی اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین بھارت کشیدگی پاکستان کی سرحد پر بھارت کی فوجی منصوبہ بندی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ فی الحال یہ صرف بیانات اور نقشوں کی جنگ ہے، فوجی نقل و حرکت نہیں۔

ذرائع

  1. The Business Standard: Never recognised UT of Ladakh, says China on India's tit-for-tat naming drive
  2. The Federal (opinion, Subir Bhaumik): Back to cartographic tussle: China's Ladakh claims cloud normalisation
  3. The News: Indian expert believes China marginalised India in region

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں