کراچی میں ڈارک ویب کیس: این سی سی آئی اے نے کیا بتایا اور والدین کن باتوں پر نظر رکھیں
این سی سی آئی اے کے مطابق کراچی کی ایک کم عمر لڑکی کو آن لائن استحصالی نیٹ ورک سے بچا لیا گیا۔ تصدیق شدہ باتیں اور والدین کے لیے رہنمائی۔

جمعے کو پاکستان میں گوگل پر “ڈارک” سب سے زیادہ تلاش ہونے والے الفاظ میں شامل تھا۔ وجہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی وہ پریس کانفرنس تھی جس میں بتایا گیا کہ کراچی کی ایک کم عمر لڑکی بچوں کا استحصال کرنے والے ایک آن لائن نیٹ ورک کے جال میں پھنس گئی تھی، اور اس کیس میں درجنوں مشتبہ افراد کی تفتیش ہو رہی ہے۔ حکام کے مطابق لڑکی اب محفوظ ہے۔
یہ کیس ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مختلف اخبارات کی تفصیلات پوری طرح نہیں ملتیں، اس لیے ہم یہاں صرف وہی لکھ رہے ہیں جو حکام نے باقاعدہ کہا، اور جہاں رپورٹس میں فرق ہے وہ بھی بتا رہے ہیں۔
این سی سی آئی اے نے کیا تصدیق کی؟
جمعے کی پریس کانفرنس میں ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ ادارے نے بچوں کو آن لائن نشانہ بنانے والے نیٹ ورک کے بارے میں مصدقہ اطلاع پر کارروائی کی۔ دی نیشن کے مطابق جمعرات کی رات چھاپے کے بعد 42 افراد گرفتار ہوئے اور 12 بچوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے 42 مشتبہ افراد کا ذکر کیا جن میں 12 کم عمر ہیں، مگر یہ واضح نہیں لکھا کہ ان میں سے کتنے حراست میں ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق تین چھوٹی ڈیزائن کمپنیوں سے، جو غیر ملکی گاہکوں کے لیے لوگو اور بینر بناتی تھیں، فون قبضے میں لیے گئے اور تفتیش ہو رہی ہے کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ جرمنی اور برطانیہ میں بعض افراد سے مشتبہ روابط بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
لڑکی تک کیسے پہنچا گیا؟
عرب نیوز کے مطابق ایک غیر ملکی تحقیقاتی ادارے نے پاکستان کو الرٹ بھیجا، جس کی مدد سے این سی سی آئی اے نے ایک انٹرنیٹ ایڈریس کو کراچی کے ایک گھر تک ٹریس کیا۔ ادارے کے سندھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے عرب نیوز کو بتایا کہ لڑکی سے گیمز اور انسٹاگرام اور ڈسکارڈ جیسی ایپس کے ذریعے رابطہ کیا گیا، اس پر دباؤ ڈالا گیا اور پھر بلیک میل کیا گیا۔ ان کے مطابق رابطہ صرف آن لائن تھا اور باقی متاثرین کی شناخت پر کام جاری ہے۔
عرب نیوز نے اس کیس کو “764” نامی بین الاقوامی نیٹ ورک سے جوڑا ہے، جس کے خلاف امریکی پراسیکیوٹر بھی کارروائی کر رہے ہیں۔ لڑکی کی عمر کے بارے میں رپورٹس مختلف ہیں (ایک میں 13 سال، دوسری میں 14 یا 15) اور اس سے کیا کروایا گیا، اس پر بھی فرق ہے؛ شہزاد اکبر نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ایک دعوے کی واضح تردید کی۔ دی نیشن کے مطابق والدین نے تقریباً چھ ماہ سے بچی کے رویے میں تبدیلی محسوس کی تھی۔
والدین کن باتوں پر نظر رکھیں؟
حکام نے جو علامات بتائیں وہ بالکل عام سی ہیں، اور یہی اصل خطرہ ہے:
- بچہ فون، گیم یا کسی نئے آن لائن “دوست” کے بارے میں چھپانے لگے۔
- اچانک مزاج میں تبدیلی، ڈر یا خاموشی جو ہفتوں تک رہے۔
- چیٹ یا وائس کال کی نئی ایپس، خاص طور پر گیمنگ پلیٹ فارمز پر۔
- آن لائن ملنے والا کوئی شخص تصویریں، “ٹاسک” یا پیسے مانگے۔
بچوں سے پہلے سے، غصے کے بغیر بات کریں تاکہ دھمکیوں کا شکار بچہ آپ کو بتاتے ہوئے نہ ڈرے۔ بلیک میلر شرمندگی اور خاموشی پر ہی چلتے ہیں۔ رات کو فون اور ٹیبلٹ گھر کے مشترکہ کمرے میں رکھیں اور گیمز اور انسٹاگرام کی پرائیویسی سیٹنگز دیکھ لیں۔
اگر لگے کہ کسی بچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو این سی سی آئی اے کی سرکاری ویب سائٹ یا قریبی سائبر کرائم دفتر میں شکایت درج کروائیں، اور چیٹ ڈیلیٹ کرنے کے بجائے اسکرین شاٹس محفوظ رکھیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ وہ مزید انٹرنیٹ ایڈریسز ٹریس کر رہا ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں مزید شناخت اور گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



