گندم کی 2027 کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر، کسانوں کا مطالبہ 5000 روپے تھا
وزیراعظم شہباز شریف نے 2027 کے لیے گندم کی اشاریہ قیمت 4500 روپے فی 40 کلو رکھ دی، جو پچھلے سال سے 1000 روپے زیادہ ہے۔ کسانوں نے 5000 مانگے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 2027 کی فصل کے لیے گندم کی اشاریہ قیمت 4500 روپے فی من (40 کلو) مقرر کر دی ہے۔ یہ پچھلے سال کے 3500 روپے سے پورے 1000 روپے زیادہ ہے۔ وزیراعظم ہاؤس نے جمعے کو یہ اعلان ایسے وقت کیا جب پنجاب اور سندھ کے کسان فیصلہ کر رہے ہیں کہ اس سردی میں کتنی زمین پر گندم بوئیں۔
اعلان ابھی کیوں؟
اصل بات وقت کی ہے۔ گندم کی بوائی اکتوبر کے آخر سے دسمبر تک ہوتی ہے اور کسان کئی ہفتوں سے کہہ رہے تھے کہ قیمت معلوم کیے بغیر وہ بوائی نہیں کریں گے۔ ڈان کے مطابق پچھلے مہینے پاکستان کسان اتحاد نے 5000 روپے فی من کا مطالبہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ پالیسی میں دیر ہوئی تو کسان گندم کاشت ہی نہیں کریں گے۔ یوں نئی قیمت وقت پر تو آ گئی، مگر مطالبے سے 500 روپے کم ہے۔
ریڈیو پاکستان اور ڈان کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیزل، کھاد اور مہنگائی کی وجہ سے کاشت کا خرچ بہت بڑھ گیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے مطابق اس قیمت سے کسان اپنا خرچ پورا کر کے مناسب منافع کما سکیں گے اور امید ہے اگلے سیزن میں زیادہ رقبے پر گندم لگے گی۔ پاکستان کو پچھلے دو برسوں میں گندم درآمد کرنی پڑی، جو ایک زرعی ملک کے لیے مہنگا سودا ہے۔
کیا 4500 روپے حتمی قیمت ہے؟
پوری طرح نہیں۔ زیادہ تر اخبارات اسے “اشاریہ” یا مجوزہ قیمت لکھ رہے ہیں، یعنی کسانوں کے لیے ایک اشارہ، مکمل خریداری پالیسی نہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیراعظم صوبوں کے ساتھ مل کر پورے ملک کے لیے ایک ہی ریٹ طے کریں گے اور گندم کو منڈی تک لانا صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ خریداری کا ہدف اور خریدنے والے ادارے ابھی سامنے نہیں آئے۔
وزیر نے یہ بھی بتایا کہ وفاق نے دس لاکھ ٹن گندم ذخیرے کے طور پر محفوظ کر رکھی ہے اور انہیں امید ہے کہ چند دنوں میں منڈی کی قیمتیں نیچے آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 26 کروڑ لوگوں کے لیے خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ایک چیلنج ہے۔
آٹے اور روٹی پر کیا اثر ہوگا؟
حکومت کی طرف سے اس پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ زیادہ امدادی قیمت کسان کے لیے اچھی ہے، مگر فلور ملیں اور تاجر بھی اسی کو بنیاد بناتے ہیں، اس لیے 2027 میں آٹا مہنگا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ یہ اس پر منحصر ہوگا کہ صوبے کتنی گندم خریدتے ہیں اور فصل کتنی اچھی ہوتی ہے۔
مشاورت کس سے ہوئی؟
وزیراعظم نے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا رہنمائی پر، اور پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ مریم نواز اور مراد علی شاہ کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نومبر میں بوائی عروج پر پہنچنے سے پہلے پنجاب اور سندھ خریداری کا اپنا منصوبہ دیتے ہیں یا نہیں، کیونکہ کسان اسی کو دیکھ کر بیج ڈالیں گے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



