اسلام آباد میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری کا گروہ پکڑا گیا: 5 گرفتار، دو گھر منجمد
ایف آئی اے کے مطابق پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی کے ایک گھر میں آپریشن ہوتے تھے۔ مریض نے 30 لاکھ دیے، ڈونر سے 4 لاکھ کا وعدہ ہوا۔

اسلام آباد کی پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی کا ایک عام سا گھر، جس کے اندر گردے کی پیوندکاری ہو رہی تھی۔ مریض نے اس کے لیے 30 لاکھ روپے دیے اور گردہ دینے والے کو صرف چار لاکھ کا وعدہ ملا۔ یہ وہ کہانی ہے جو ایف آئی اے نے جمعرات کو ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کے ساتھ مل کر چھاپے کے بعد سامنے رکھی۔
پانچ افراد گرفتار ہو چکے ہیں اور عدالت نے انہیں سات دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔ الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
ایف آئی اے کے مطابق کیا ملا
ڈان اور دی نیشن میں شائع ایف آئی اے کے بیان کے مطابق تفتیش کاروں نے پایا کہ محمد قاسم نامی مریض کو رمضان ارشد نامی شخص کا گردہ قانون کے خلاف لگایا گیا۔
ایف آئی اے اسے ایک منظم گروہ قرار دیتی ہے جس میں ایجنٹ، ایک ڈاکٹر، ایک نرس، بے ہوشی دینے والا، دواؤں کا سپلائر، لیب ٹیسٹ کروانے والے اور ڈائیلاسز کا انتظام کرنے والا سب شامل تھے۔ ادارے کے مطابق آپریشن رہائشی گھروں میں ایسے لوگ کرتے تھے جن کے پاس نہ لائسنس تھا نہ مطلوبہ طبی ڈگری۔
تین ملزم موقع سے پکڑے گئے اور دو بعد میں۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد باقی افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
پیسوں کا حساب
- مریض نے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے نقد ادا کیے۔
- ڈونر سے 4 لاکھ روپے کا وعدہ ہوا: 3 لاکھ 40 ہزار اس کا حصہ اور 60 ہزار تین ایجنٹوں کا کمیشن۔
- چھاپے میں 10 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے۔
- تین گاڑیاں قبضے میں لی گئیں، ایک چنگان اوشن ایکس 7 اور دو ہونڈا سوک، اور ایکسائز کے ذریعے ان کی منتقلی روک دی گئی۔
- ایف آئی اے ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت دو گھر منجمد کیے گئے: میڈیا ٹاؤن کا 10 مرلے کا گھر جو 6 کروڑ 25 لاکھ میں خریدا گیا، اور جناح گارڈن فیز ون کا 5 مرلے کا گھر جو 2 کروڑ 50 لاکھ میں خریدا گیا۔ کل ملا کر 8 کروڑ 75 لاکھ روپے۔
اے پی پی کی ایک ابتدائی سرخی میں یہ رقم 87 کروڑ 50 لاکھ لکھی گئی تھی، لیکن ڈان، دی نیشن اور ایکسپریس ٹریبیون تینوں دونوں گھروں کی جو قیمتیں بتاتے ہیں ان کا مجموعہ 8 کروڑ 75 لاکھ بنتا ہے، اس لیے ہم یہی رقم لکھ رہے ہیں۔
ایف آئی اے نے ملزمان کے ریکارڈ کے لیے بینکوں کو خط لکھ دیے ہیں اور دو ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی الگ کارروائی پر غور ہو رہا ہے۔
کاغذات کیسے جعلی بنائے گئے
پاکستان میں زندہ ڈونر عام طور پر قریبی رشتہ دار ہونا چاہیے اور ٹرانسپلانٹ کے لیے ہوٹا کی منظوری ضروری ہے۔ ٹشو ٹائپنگ، کراس میچ اور ایچ ایل اے جیسے ٹیسٹ صرف انہی منظور شدہ رشتہ داروں کے ہوتے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق ایجنٹ ڈونر کے نمونے مریض کے رشتہ داروں کے نام سے ایک ہسپتال کی لیب میں بھجواتے تھے اور ساتھ جعلی ریفرل لیٹر لگاتے تھے۔ ڈائیلاسز اسلام آباد کے ایک ہسپتال کے ٹیکنیشن کے ذریعے کروایا جاتا تھا اور آپریشن کے بعد طبیعت بگڑنے پر مریض کو دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا جاتا تھا۔ دونوں ہسپتالوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
تفتیش کاروں کے مطابق گروہ بحریہ ٹاؤن فیز فور اور پشاور میں بھی نجی جگہیں استعمال کرتا تھا۔
کون سی دفعات لگیں
مقدمہ انسانی اعضا و ٹشوز کی پیوندکاری ایکٹ 2010 کی دفعات 9، 10 اور 11 کے تحت درج ہوا ہے، جو اعضا کی خرید و فروخت پر پابندی لگاتا ہے، اور ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات 34، 419 اور 109 بھی شامل ہیں۔
ہوٹا، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور ڈریپ کی ٹیموں نے گھر کا معائنہ کیا جسے اب سیل کر دیا گیا ہے۔ تینوں ادارے الگ الگ رپورٹ دیں گے، اور سات دن کے ریمانڈ میں پتا چلے گا کہ کیا ایف آئی اے اس ڈاکٹر اور ہسپتالوں کے نام سامنے لا سکتی ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



