اسموگ کے لیے گھر کا بنا ایئر پیوریفائر: ایک پنکھا اور 4 فلٹر کمرے کی ہوا کیسے صاف کرتے ہیں

لاہور کی ہوا پھر خطرناک ہے۔ پنکھے اور ایم ای آر وی 13 فلٹرز سے بنا کورسی روزنتھل باکس کم خرچ میں کمرے کی ہوا صاف کرتا ہے۔ اسے محفوظ طریقے سے کیسے بنائیں؟

A man in an N95 mask holds a 20 by 20 inch pleated air filter at a Corsi-Rosenthal box building event at UC Davis
تصویر: UC Davis College of Engineering (CC BY 2.0)

اس ہفتے لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سب سے اوپر ہے، اور بہت سے گھرانے ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: کیا مہنگا ایئر پیوریفائر خریدے بغیر گھر کے اندر کی ہوا صاف کی جا سکتی ہے؟ جی ہاں، اور امریکی ماحولیاتی ادارے ای پی اے نے اسے آزمایا بھی ہے۔ ایک پنکھا اور چند اچھے ایئر فلٹر، ٹیپ سے جوڑ کر ڈبے کی شکل میں، کمرے سے دھواں اور باریک گرد حیرت انگیز حد تک کھینچ لیتے ہیں۔

اسے کورسی روزنتھل باکس کہتے ہیں، ان دو امریکی محققین کے نام پر جنہوں نے اسے مقبول کیا۔

کیا چاہیے؟

  • ایک چوکور باکس فین، بہتر ہے نیا ہو اور اس پر حفاظتی سرٹیفکیشن کا نشان ہو۔ ای پی اے کے ٹیسٹ میں 2012 یا اس کے بعد بنے، یو ایل یا ای ٹی ایل نشان والے پنکھے استعمال ہوئے، جن میں فیوز والا پلگ اور گرم ہونے پر خود بند ہونے کا نظام ہوتا ہے۔
  • چار ایم ای آر وی 13 ایئر فلٹر، وہی تہہ دار فلٹر جو سینٹرل ایئر کنڈیشنگ میں لگتے ہیں۔ امریکی رہنمائی میں عام باکس فین کے لیے 20 ضرب 20 انچ کے فلٹر استعمال ہوتے ہیں، آپ اپنے پنکھے کے سائز کے مطابق لیں۔
  • مضبوط ٹیپ (ڈکٹ ٹیپ) اور اوپر کے لیے گتے کا ایک ٹکڑا۔

کیسے بنائیں؟

  1. چاروں فلٹر کناروں پر کھڑے کر کے ڈبے کی دیواروں کی طرح چوکور ترتیب دیں، اور ہر فلٹر پر ہوا کے رخ والے تیر اندر کی طرف ہوں۔
  2. کنارے اچھی طرح ٹیپ کریں تاکہ کوئی درز نہ رہے۔
  3. پنکھا اوپر رکھیں، اس کا رخ اوپر اور باہر کی طرف ہو، تاکہ وہ ہوا کو چاروں فلٹرز سے کھینچ کر اوپر پھینکے۔
  4. پنکھے کو چاروں طرف سے فلٹرز کے ساتھ ٹیپ کر دیں۔
  5. گتے سے ایک چھلا (شراؤڈ) کاٹ کر پنکھے کے ان کونوں پر لگائیں جو گول پروں سے باہر ہیں، تاکہ ہوا واپس اندر نہ جائے۔ ای پی اے کے مطابق اس ایک مفت قدم سے کارکردگی تقریباً 40 فیصد بڑھ گئی۔

کیا یہ واقعی کام کرتا ہے؟

ای پی اے کی لیب میں دھوئیں کے ٹیسٹ میں ایک عام ایم ای آر وی 13 فلٹر والے پنکھے کا صاف ہوا کا ریٹ (سی اے ڈی آر) 111 تھا۔ چار فلٹر اور شراؤڈ والا ڈبہ 401 تک پہنچا، یعنی ساڑھے تین گنا سے زیادہ بہتر۔ یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کے محققین نے پانچ فلٹر والے ورژن کو پنکھے کی رفتار کے حساب سے تقریباً 600 سے 850 کیوبک فٹ فی منٹ صاف ہوا دیتے پایا، جو بازار کے بہت سے پیوریفائرز کے برابر ہے۔

ہیپا پیوریفائر اب بھی ہر بار گزرنے والی ہوا سے انتہائی باریک ذرات زیادہ پکڑتا ہے۔ گھر کا بنا ڈبہ اس کمی کو کہیں زیادہ ہوا گھما کر پورا کرتا ہے۔ ای پی اے کے مطابق یہ لیب میں مؤثر ہے اور عام گھروں میں اس کے نتائج پر تحقیق جاری ہے، اس لیے اسے ایک مضبوط اضافی ذریعہ سمجھیں، طبی آلہ نہیں۔

حفاظت سب سے پہلے

ای پی اے کے ساتھی ادارے یو ایل نے پانچ باکس فین بند فلٹرز کے ساتھ، حتیٰ کہ دونوں طرف سے سات گھنٹے بند کر کے بھی چلائے، اور کسی میں آگ نہیں لگی۔ پھر بھی ای پی اے کی ہدایت واضح ہے:

  • نیا، سرٹیفائیڈ پنکھا استعمال کریں۔ پرانا یا بغیر سرٹیفکیشن والا پنکھا اکیلا یا رات بھر چلتا نہ چھوڑیں۔
  • ایکسٹینشن کورڈ یا خراب پنکھا استعمال نہ کریں، اور بچوں کو اس سے دور رکھیں۔
  • گھر میں کام کرتا اسموک ڈیٹیکٹر رکھیں۔

فلٹر بار بار بدلیں

یہی بات لوگ اکثر بھول جاتے ہیں۔ ای پی اے کے مطابق گندے فلٹرز نے ان ڈبوں کو تقریباً بالکل بے اثر کر دیا۔ شدید اسموگ میں انہیں روزانہ دیکھیں اور جب گہرے سرمئی یا بھورے ہو جائیں یا ان سے دھوئیں کی بو آئے تو بدل دیں۔

لاہور کی آج کی فضائی صورتحال کے لیے ہماری لاہور اے کیو آئی والی خبر دیکھیں۔ ڈبہ چلتے وقت کمرے کے دروازے کھڑکیاں بند رکھیں، ورنہ آپ صرف سڑک کی ہوا فلٹر کرتے رہیں گے۔

ذرائع

  1. US EPA: Research on DIY air cleaners to reduce wildfire smoke indoors
  2. University of Connecticut (Indoor Air Quality Initiative): Characterizing the performance of a DIY box fan air filter
  3. UC Davis Energy and Efficiency Institute: Case study on DIY portable air cleaners

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں