گھر چھوڑنے کی کشمکش پر پاکستانی فلم 'ڈانسرز' بوسان کی فلم مارکیٹ کے لیے منتخب
لاہور کے قریب پنجاب کے ایک قصبے کی کہانی پر مبنی عیشہ شکیل کی پہلی فیچر فلم اس ماہ بوسان کی ایشین پراجیکٹ مارکیٹ کے 30 منصوبوں میں شامل تھی۔

ایک پاکستانی فلم جو وہی سوال اٹھاتی ہے جو آج بہت سے نوجوان پوچھ رہے ہیں، رکوں یا چلا جاؤں؟، ایشیا کی سب سے بڑی فلم مارکیٹوں میں سے ایک تک پہنچ گئی ہے۔
لکھاری اور ہدایت کار عیشہ شکیل کی پہلی فیچر فلم ڈانسرز جنوبی کوریا کے بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی ایشین پراجیکٹ مارکیٹ کے لیے منتخب ہونے والے 30 منصوبوں میں شامل تھی۔ اسکرین ڈیلی کے مطابق یہ مارکیٹ 10 سے 13 اکتوبر تک جاری رہی اور اس سال اس کے لیے 44 ممالک سے ریکارڈ 455 درخواستیں آئیں۔
فلم کی کہانی
ورائٹی کے مطابق ڈانسرز کی کہانی لاہور کے قریب پنجاب کے ایک قصبے میں بنی ہے، جہاں دو نوجوان چھپ کر رقص سیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ پارس پاکستان چھوڑنا چاہتا ہے۔ رمزہ ابھی خود کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے بچپن میں طے کی گئی شادی کا سامنا ہے۔ پس منظر میں ایک نئی سڑک کا منصوبہ قصبے کو دو حصوں میں بانٹ دیتا ہے: ایک طرف تبدیلی کے حامی، دوسری طرف وہ جو اسے روایت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
عیشہ شکیل نے ورائٹی کو بتایا کہ انہوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو ملک چھوڑتے دیکھا، اور یہ فلم پاکستانی نوجوانوں پر اسی کھنچاؤ کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ یہ کہانی ان کے لیے ذاتی بھی ہے: انہوں نے رقص اور اداکاری چھپ کر سیکھی کیونکہ ان کے گھر والے دونوں کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ وہ کنٹیمپریری ڈانس کی تربیت یافتہ ہیں اور فلم میں اسے پنجابی رقص کے ایک انداز کے ساتھ ملانا چاہتی ہیں۔
فلم کے پیچھے ٹیم
- عیشہ شکیل (لکھاری اور ہدایت کار) پروڈکشن کمپنی لاسٹ شاٹ کی شریک بانی ہیں اور اس سے پہلے ویب سیریز ڈھیٹ ہڈی اور مختصر فلم ایکسپلیسٹ بنا چکی ہیں۔
- لاسٹ شاٹ کے شریک بانی حارث خان فلم کے پروڈیوسر ہیں۔
- جوش، آئل میٹ یو دیئر اور وکھری کے لیے جانی جانے والی ارم پروین بلال بھی پروڈیوسر ہیں۔
- بی بی سی سے وابستہ رہنے والے اور برطانیہ کی پنک لاما فلمز کے شریک بانی وسیم محمود ایگزیکٹو پروڈیوسر ہیں۔ پنک لاما نے فلم کے لیے سرمایہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔
اس فلم کا اسکرپٹ فلم انڈیپنڈنٹ کے گلوبل میڈیا میکرز پروگرام میں تیار ہوا، جہاں 600 درخواستوں میں سے صرف 20 منتخب ہوئیں۔
بوسان کیوں اہم ہے
ایشین پراجیکٹ مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں فلم ساز سرمایہ کاروں، شریک پروڈیوسرز، فیسٹیولز اور سیلز ایجنٹس سے ملتے ہیں۔ ورائٹی کے مطابق فلم کا بجٹ تقریباً چار لاکھ 43 ہزار ڈالر ہے، اسکرپٹ اور بجٹ طے ہو چکے ہیں، بنیادی ٹیم موجود ہے اور مرکزی کرداروں کے آڈیشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ ٹیم باقی سرمایہ اور شراکت دار تلاش کرنے بوسان گئی تھی۔
حارث خان نے ورائٹی سے کہا: “ہم صرف ایک اچھی فلم نہیں بنانا چاہتے، ہم ایک کمپنی بنانا چاہتے ہیں۔”
پاکستانی سنیما کے لیے یہ ایک چھوٹی مگر حقیقی کامیابی ہے کہ پنجاب کی ایک آزاد فلم، جو نوجوانوں اور ہجرت کی کہانی سناتی ہے، اس سطح تک پہنچی۔ ہم ڈانسرز کے سفر پر نظر رکھیں گے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



