زبیدہ خانم کی یاد میں: لالی وڈ کے سنہری دور کی آواز، 13 سال بعد

صرف آٹھ برس میں سیکڑوں فلمی گیت گانے والی زبیدہ خانم 19 اکتوبر 2013 کو انتقال کر گئیں۔ ان کی زندگی، مشہور گیت اور وہ آج بھی کیوں اہم ہیں۔

Playback singer Zubaida Khanum
تصویر: The Express Tribune

19 اکتوبر کو پاکستانی فلموں کے سنہری دور کی مقبول ترین پلے بیک گلوکاراؤں میں سے ایک، زبیدہ خانم کے انتقال کو 13 سال ہو گئے۔ اس ہفتے مداحوں اور میڈیا نے انہیں یاد کیا تو ان کا نام ایک بار پھر ٹرینڈ کرنے لگا۔

مختصر مگر شاندار کیریئر

زبیدہ خانم 1935 میں امرتسر (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئیں اور پاکستان آ کر 1950 کی دہائی کے اردو اور پنجابی سینما کی نمایاں ترین آوازوں میں شامل ہو گئیں۔

ان کا کیریئر مختصر مگر غیر معمولی تھا:

  • ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے 1951 میں فلم بلو سے آغاز کیا، اور ان کے بیٹے کے بقول “انہیں کبھی جدوجہد نہیں کرنی پڑی کیونکہ ان کا پہلا ہی گانا ہٹ ہو گیا تھا۔”
  • ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے تقریباً 150 فلموں میں 200 سے زیادہ گیت گائے (وکی پیڈیا یہ تعداد 250 سے زیادہ بتاتا ہے)۔
  • انہوں نے معاون کردار بھی ادا کیے، جن میں نور جہاں کے ساتھ پاٹے خان (1955) اور دُلا بھٹی (1956) شامل ہیں۔
  • انہوں نے رشید عطرے، صفدر حسین، غلام احمد چشتی اور خواجہ خورشید انور جیسے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، اور احمد رشدی کے ساتھ دوگانے گائے۔

وہ فلمیں اور گیت جو یاد کیے جاتے ہیں

ان کی فلموں کی فہرست اس دور کی کلاسیکس جیسی ہے:

  • پنجابی: ہیر (1955)، ماہی منڈا (1956)، چن ماہی (1956)، یکے والی (1957)، کرتار سنگھ (1959)
  • اردو: انوکھی (1956)، سرفروش (1956)، عشقِ لیلیٰ (1957)، سات لاکھ (1957)

سات لاکھ کا ان کا گیت “آئے موسم” اداکارہ نیلو کی شہرت کی وجہ مانا جاتا ہے۔ سرفروش کے گیت “تیری الفت میں صنم” اور “اے چاند ان سے جا کر” آج بھی ریڈیو پر بجتے اور آن لائن شیئر ہوتے ہیں۔

وہ کیوں دور ہوئیں

1959 میں انہوں نے مشہور سینماٹوگرافر ریاض بخاری سے شادی کی اور گھر بسانے کے لیے فلمیں چھوڑ دیں۔ بعد کی زندگی میں وہ میلاد کی محفلوں میں نعتیں اور روحانی کلام پڑھتی رہیں۔ ان کے بیٹے فیصل بخاری بھی سینماٹوگرافر اور ہدایت کار بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ “اپنے گیتوں میں جو تاثرات لاتی تھیں، اس کے لیے مشہور تھیں۔”

انتقال

زبیدہ خانم 19 اکتوبر 2013 کو لاہور میں دل کا دورہ پڑنے سے 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں، اسی تاریخ کو جو ان کے شوہر کی برسی بھی تھی۔

وہ آج بھی کیوں اہم ہیں

آج کے او ایس ٹیز اور کوک اسٹوڈیو کے کورز انہی جیسی گلوکاراؤں کی رکھی ہوئی بنیادوں پر کھڑے ہیں۔ زبیدہ خانم کی آواز نے فلم بینوں کی ایک پوری نسل کے جذبات کو زبان دی، اور ان کے گیت چھ دہائیوں بعد بھی تازہ لگتے ہیں۔ اگر آپ نے انہیں کبھی نہیں سنا تو سرفروش سے شروع کریں۔

ذرائع

  1. The Express Tribune: Zubaida Khanum leaves behind a legacy
  2. Wikipedia: Zubaida Khanum

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں