فلم رنابالی: وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا کی قحط پر مبنی فلم کی کہانی، ریویوز اور باکس آفس
رنابالی پاکستان میں ٹرینڈ کر رہی ہے۔ 1870 کی دہائی کے مدراس قحط پر بنی تیلگو فلم نے دنیا بھر میں 16 کروڑ روپے سے آغاز کیا اور ریویوز ملے جلے ہیں۔


رنابالی اس ہفتے پاکستان میں گوگل کی سب سے بڑی سرچز میں سے ایک ہے۔ فلم میں وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندنا ہیں، جن دونوں کے جنوبی بھارتی فلموں کے پاکستانی شائقین میں بڑے مداح ہیں۔
رنابالی کس بارے میں ہے؟
راہول سنکرتیان کی ہدایت کاری میں بنی یہ تیلگو تاریخی ایکشن فلم تقریباً 1876 میں جنوبی بھارت کے علاقے رائلسیما کے ایک گاؤں میں، برطانوی راج کے دوران مدراس کے عظیم قحط کے پس منظر میں سیٹ ہے۔
- وجے دیوراکونڈا رنابالی کا کردار ادا کر رہے ہیں، ایک بے خوف جنگجو جو کہانی کے مطابق مردہ پیدا ہونے کے بعد زندہ بچا اور گاؤں کے مندر سے عقیدت میں پلا بڑھا۔
- رشمیکا مندنا ان کی بیوی جیاما بنی ہیں۔
- جنوبی افریقی اداکار آرنلڈ ووسلو (دی ممی) ایک برطانوی افسر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
- موسیقی اجے اتل کی ہے۔
جب خشک سالی اور نوآبادیاتی پالیسیاں علاقے کو قحط میں دھکیل دیتی ہیں، تو رنابالی اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے برطانوی راج سے ٹکر لیتا ہے۔
ناقدین کیا کہتے ہیں
ریویوز ملے جلے ہیں:
- دی ہالی وڈ رپورٹر انڈیا نے دونوں مرکزی اداکاروں، کہانی کے آغاز، مناظر اور اجے اتل کی “متاثر کن” موسیقی کی تعریف کی، لیکن کہا کہ فلم جذباتی ڈرامے کو بڑی کہانی کے ساتھ جوڑنے میں مشکل کا شکار ہے۔ ان کے مطابق تشدد اتنا زیادہ ہے کہ اکثر ڈرامے پر حاوی ہو جاتا ہے، اور کلائمکس متوقع ہے۔
- ایکس پر ابتدائی ناظرین نے فلم کے پیمانے اور انٹرویل سین کی تعریف کی، جبکہ کچھ کو بعض حصے سست لگے۔
باکس آفس
فلم جمعہ 16 اکتوبر کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی۔ کوئی موئی کے مطابق:
- بھارت میں پہلے دن (نیٹ): 9.25 کروڑ روپے
- دنیا بھر میں پہلے دن (گراس): تقریباً 16.67 کروڑ روپے
یہ معمولی آغاز ہے۔ یہ وجے کی پچھلی فلم کنگڈم (پہلے دن 17 کروڑ نیٹ) سے کافی کم ہے اور کووڈ کے بعد ان کی فلموں کے آغاز میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اسے اسی ہفتے ریکارڈ توڑنے والی رجنی کانت کی جیلر 2 سے بھی سخت مقابلہ رہا۔
کیا پاکستان میں دیکھ سکتے ہیں؟
بھارتی فلمیں پاکستانی سینما گھروں میں ریلیز نہیں ہوتیں، اس لیے یہاں کے زیادہ تر شائقین کو باقاعدہ اسٹریمنگ ریلیز کا انتظار کرنا ہوگا۔ پائریٹڈ کاپیوں سے بچیں؛ ان کا معیار اکثر خراب ہوتا ہے اور وہ وائرس سے بھری ہوتی ہیں۔
آفیشل ٹریلر نیچے دیکھیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



