پی ایچ پی کی سیکیورٹی خامی: حکومتوں نے جلدی کیوں کی اور پاکستانی ویب سائٹ مالکان کیا کریں
زیادہ تر ویب سائٹس چلانے والی زبان پی ایچ پی میں دو سنگین خامیاں ملی ہیں جن سے ہیکرز بغیر پاس ورڈ سرور قبضے میں لے سکتے ہیں۔

“پی ایچ پی سیکیورٹی خامیاں” پاکستان میں ٹرینڈ کر رہی ہیں، اور وجہ معقول ہے۔ دنیا کی بڑی تعداد میں ویب سائٹس چلانے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی میں دو سنگین خامیاں 21 اکتوبر کو سامنے آئیں، اور جنوبی کوریا سے یورپ تک حکومتیں حرکت میں آ گئی ہیں۔
پی ایچ پی کیا ہے؟
پی ایچ پی ویب سائٹ کے سرور پر چلنے والا کوڈ ہے جو لاگ ان، رابطہ فارم اور آن لائن آرڈر جیسے کام سنبھالتا ہے۔ کوریا جونگ اینگ ڈیلی کے مطابق جن ویب سائٹس کی پروگرامنگ زبان معلوم ہے ان میں سے تقریباً 70 فیصد پی ایچ پی استعمال کرتی ہیں۔ ورڈ پریس، جس پر دنیا کی تقریباً 40 فیصد ویب سائٹس چلتی ہیں، اسی پر بنا ہے۔
یعنی پاکستان کی بہت سی کاروباری ویب سائٹس، آن لائن دکانیں، اسکول اور یونیورسٹی پورٹلز اور بلاگز پی ایچ پی پر چل رہے ہیں۔
مسئلہ کیا ہے؟
پی ایچ پی ٹیم نے دو سنگین خامیاں بتائیں جنہیں 10 میں سے 9.2 کا درجہ دیا گیا۔ ایک کو “پی ایچ پی ٹو شیل” کہا جا رہا ہے۔ بدترین صورت میں حملہ آور لاگ ان کیے بغیر سرور پر اپنے احکامات چلا سکتا ہے اور چند سیکنڈ میں ویب سائٹ پر قبضہ کر سکتا ہے۔
اس سے ویب سائٹ کا حلیہ بگاڑا جا سکتا ہے، صارفین کا ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے یا سائٹ بند ہو سکتی ہے۔
حکومتوں کا ردعمل
- جنوبی کوریا نے نجی شعبے کے لیے سائبر الرٹ چار میں سے دوسرے درجے “احتیاط” تک بڑھا دیا۔ آہن لیب کے اندازے کے مطابق وہاں تقریباً ایک لاکھ دس ہزار سرور خطرے میں ہیں۔
- امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ فوری پیچ کریں، ورنہ سسٹم آف لائن کر دیں۔
- یورپ میں فرانس کی وزارت داخلہ اور ڈچ سائبر سیکیورٹی مرکز سمیت کئی اداروں نے کچھ ویب سائٹس عارضی طور پر بند کیں۔
اے آئی نے ڈھونڈا
یہ خامیاں برسوں سے پی ایچ پی کے کوڈ میں موجود تھیں۔ کوریا جونگ اینگ ڈیلی کے مطابق سیکیورٹی کمپنی کیلف نے اگست میں اوپن اے آئی ماڈل کی مدد سے آڈٹ کے دوران انہیں ڈھونڈا، اور وِز نے بھی مدد کی۔
آپ کیا کریں؟
اگر آپ ویب سائٹ چلاتے ہیں یا فری لانسر کے طور پر کلائنٹس کی سائٹس سنبھالتے ہیں:
- پی ایچ پی ورژن چیک کریں۔ ہوسٹنگ پینل (سی پینل وغیرہ) میں عام طور پر نظر آتا ہے۔
- فوراً اپڈیٹ کریں۔ پی ایچ پی 8.1 اور پرانے ورژنز کو اب سرکاری سیکیورٹی اپڈیٹس نہیں ملتیں۔ کوریا جونگ اینگ ڈیلی کے مطابق نئے پیچ کے لیے پی ایچ پی 8.3 یا نیا ورژن چاہیے۔
- ہوسٹنگ کمپنی سے پوچھیں کہ کیا انہوں نے ہنگامی پیچ لگا دیا ہے۔
- اگر پیچ سے پہلے سرور کھلا تھا تو حملے کے نشانات دیکھیں: نامعلوم ایڈمن یوزر، نئی فائلیں یا عجیب ری ڈائریکٹ۔
- ویب فائر وال مددگار ہے، لیکن عارضی حل ہے۔
عام صارفین کو کچھ انسٹال کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس ایسی ویب سائٹس پر محتاط رہیں جو بگڑی ہوئی نظر آئیں یا غیر معمولی معلومات مانگیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



