'چھلڑے چھلڑے وال': شانزے سیال کا سرائیکی لوک گیت بھارت میں کیسے وائرل ہوا
شانزے سیال اور محسن لاشاری کے گائے پرانے سرائیکی گیت کے کروڑوں ویوز، یوپی پولیس افسر کا گٹار ورژن اور بالی وڈ سے موازنہ۔

اگر آپ کی انسٹاگرام فیڈ پر ان دنوں ایک میٹھی سرائیکی دھن بار بار آ رہی ہے تو آپ اکیلے نہیں۔ “چھلڑے چھلڑے وال” اس مہینے سرحد کے دونوں طرف سب سے زیادہ شیئر ہونے والے گانوں میں شامل ہے، اور اس کا آغاز جنوبی پنجاب سے ہوا۔
کور جس سے سب شروع ہوا
پاکستانی گلوکار شانزے سیال اور محسن لاشاری نے اس روایتی سرائیکی لوک گیت کا سادہ ایکوسٹک ورژن ریکارڈ کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون اور گلف نیوز کے مطابق اسے انسٹاگرام اور یوٹیوب پر لاکھوں بلکہ کروڑوں ویوز ملے ہیں اور انسٹاگرام ریل پر مبینہ طور پر ایک کروڑ سے زیادہ لائکس ہیں۔
یہ گیت، جسے ٹیڈیاں ریساں کون کرے بھی کہا جاتا ہے، برسوں سے کئی لوک گلوکار گاتے آئے ہیں۔ محمد حسین بندیالوی کا نام اس سے سب سے زیادہ جڑا ہے۔
بھارت کو یہ کیوں پسند آیا؟
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھارتی پنجاب اور اس سے آگے وائرل ہوا۔
- بھارتی پنجابی گلوکارہ سنندا شرما نے اپنا ورژن شیئر کیا۔
- اتر پردیش پولیس کے سب انسپکٹر نشانت مشرا گٹار کے ساتھ یہ گیت گا کر وائرل ہو گئے۔ انہوں نے لکھا: “موسیقی کی کوئی سرحد، کوئی زبان کی رکاوٹ نہیں، یہ دلوں کو جوڑتی ہے۔”
- سننے والے اس دھن کا موازنہ 1994 کی بالی وڈ فلم موہرا کے گانے “نہ کجرے کی دھار” سے بھی کر رہے ہیں، جس پر الگ بحث چھڑ گئی ہے۔
سرائیکی کا وقت
جنوبی پنجاب اور آس پاس بولی جانے والی سرائیکی زبان کو کم ہی اتنی قومی، بلکہ بین الاقوامی توجہ ملتی ہے۔ یہ مہینہ بتاتا ہے کہ علاقائی زبان کا گیت کتنی دور تک جا سکتا ہے۔
24 نیوز کے مطابق شانزے سیال نے اب نور جہاں کے “ماہی وے مینوں” کا نیا ورژن اے آئی سے بنی ویڈیو کے ساتھ جاری کیا ہے۔
خود سنیں
اصل ریل نیچے موجود ہے۔ اگر آپ پورا ہفتہ یہ گنگناتے رہے ہیں تو اب آپ جانتے ہیں یہ کہاں سے آیا۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



