کرائے کی سائیکلیں اور غلط کٹ: ایشین گیمز میں پاکستان کی پہلی خواتین ٹرائی ایتھلیٹس
ثنا عارف اور انیشہ علی نے آئچی ناگویا میں تاریخ رقم کی۔ تمغہ نہیں ملا، لیکن ان کی کہانی بتاتی ہے کہ پاکستان اپنے کھلاڑیوں کا کتنا ساتھ دیتا ہے۔

جاپان کے شہر آئچی ناگویا میں 20ویں ایشین گیمز میں پاکستان ٹرائی ایتھلون میں کوئی تمغہ نہیں جیت سکا، لیکن دو خواتین نے محض اسٹارٹ لائن پر پہنچ کر تاریخ رقم کر دی۔
منٹ مرر اور امرا نیوز کے مطابق ثنا عارف اور انیشہ علی ایشین گیمز میں پاکستان کی پہلی خواتین ٹرائی ایتھلیٹس بنیں۔ ان کے ساتھ مرد کھلاڑی علی حسن، محید صادق لون اور محمد مستغیث نور بھی شامل تھے۔
ٹرائی ایتھلون میں تیراکی، سائیکلنگ اور دوڑ مسلسل کرنی ہوتی ہے، اور یہ کسی بھی کھیلوں کے مقابلے کے مشکل ترین ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔
ثنا عارف: چھٹیوں سے ایشین گیمز تک
ثنا کویت میں پیدا ہوئیں، لاہور میں پلی بڑھیں اور پھر کویت واپس چلی گئیں جہاں انہوں نے زیادہ تر خود ٹریننگ کی۔ انہوں نے 2021 میں تیراکی شروع کی اور اب تک تین آئرن مین 70.3 ریس مکمل کر چکی ہیں۔
ان کا انتخاب بھی دلچسپ ہے۔ وہ چھٹیوں پر پاکستان آئی تھیں جب ایک دوست نے انہیں قومی ٹیم کے ٹرائلز کا بتایا۔ وہ ٹرائلز میں گئیں اور ایک ہفتے بعد پاکستان ٹرائی ایتھلون فیڈریشن نے ان کی شمولیت کی تصدیق کر دی۔
انیشہ علی: ہنزہ سے
26 سالہ انیشہ کا تعلق ہنزہ سے ہے اور وہ جوڈو، مارشل آرٹس، روئنگ، رسہ کشی اور فینسنگ میں حصہ لے چکی ہیں۔ اس کے باوجود تیراکی، سائیکلنگ اور دوڑ کا امتزاج ان کے لیے نیا چیلنج تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ دیہی اور پہاڑی علاقوں کی بہت سی باصلاحیت لڑکیوں کے پاس نہ تربیتی سہولیات ہیں، نہ کوچ، نہ پیسے اور نہ کھیلنے کا محفوظ ماحول۔ انہیں امید ہے کہ پاکستانی خواتین کو بیرون ملک کھیلتا دیکھ کر وہ حوصلہ پائیں گی۔
مشکل حصہ
ٹیم کی تیاری مثالی نہیں تھی:
- کھلاڑیوں نے کرائے کی سائیکلیں استعمال کیں۔
- دی گئی کٹس اس کھیل کے لیے موزوں نہیں تھیں۔
- تیاری کا وقت بہت کم تھا۔
ثنا کا پیغام واضح تھا: “اگر پاکستان مقابلہ کرنے والے ایتھلیٹس چاہتا ہے تو انہیں ایونٹ سے صرف چھ ماہ پہلے سپورٹ نہیں ملنی چاہیے۔”
تمغہ نہ ملنے پر کچھ لوگوں نے تنقید کی، لیکن ثنا نے کہا کہ انہوں نے ملنے والی حمایت پر توجہ دی۔
یہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں کھیل کا مطلب زیادہ تر کرکٹ ہے، کبھی کبھار ہاکی اور جیولن۔ ایسی کہانیاں بتاتی ہیں کہ ان کھیلوں میں بھی ٹیلنٹ ہے جن کا ہم کم ذکر کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ فیڈریشنز اور اسپانسرز اگلے چار سال ان کا ساتھ دیں گے یا صرف آخری چھ ماہ۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



