میسن کرین کون ہیں؟ انگلینڈ کے لیگ اسپنر نو سال بعد واپس، اب پاکستان کے مدِمقابل
انگلینڈ کی جانب سے سہ ملکی ون ڈے سیریز کے لیے بلائے جانے کے بعد میسن کرین پاکستان میں ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ان کی کہانی، 2026 کی فارم اور وہ کیوں اہم ہو سکتے ہیں۔

میسن کرین آج پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے ناموں میں سے ہیں، اور بہت سے شائقین ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: یہ ہیں کون؟
مختصر جواب
آئی سی سی کے مطابق کرین 29 سالہ انگلش لیگ اسپنر ہیں جنہیں پاکستان میں سہ ملکی ون ڈے سیریز کے لیے انگلینڈ کی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جو تقریباً نو سال میں ان کا پہلا بین الاقوامی انتخاب ہے۔
اب تک کی کہانی
کرین کو کبھی انگلینڈ کی اسپن کی اگلی بڑی امید سمجھا جاتا تھا:
- انہوں نے 2017 اور 2018 کے شروع میں تین بار انگلینڈ کی نمائندگی کی، اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی۔
- ان میں سے دو میچ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی تھے۔ ان کی واحد وکٹ ایک مشہور وکٹ تھی: اے بی ڈی ویلیئرز۔
- ان کا آخری میچ سڈنی میں 2017-18 ایشز کا آخری ٹیسٹ تھا، جس میں انہوں نے عثمان خواجہ کو آؤٹ کیا جو پہلے ہی 171 رنز بنا چکے تھے۔ آسٹریلیا نے وہ سیریز 0-4 سے جیتی۔
پھر وہ تقریباً ایک دہائی تک منظر سے غائب رہے۔
وہ واپس کیوں آئے
کرین 2026 میں انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں زبردست فارم میں رہے:
- 14 کاؤنٹی چیمپئن شپ میچوں میں 34 وکٹیں
- 10 وائٹیلیٹی بلاسٹ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 15 وکٹیں
ای سی بی نے انہیں ہیری بروک کی قیادت میں 16 رکنی اسکواڈ میں شامل کیا، جس میں عادل رشید اور سیم کرن بھی ہیں جبکہ جوفرا آرچر کو آرام دیا گیا ہے۔ اگر وہ کھیلے تو یہ ان کا ون ڈے ڈیبیو ہوگا۔
انہوں نے کیا کہا
اسکائی اسپورٹس کرکٹ پوڈکاسٹ پر کرین نے کہا کہ انہیں “واقعی اس کی توقع نہیں تھی” اور یہ بلاوا “اچانک” آیا۔ انہوں نے مانا کہ ایک وقت وہ قبول کر چکے تھے کہ شاید دوسرا موقع کبھی نہ ملے، اور انہوں نے خود پر بہت دباؤ ڈالا تھا۔ ان کے بقول اب ان کی چمک واپس آ گئی ہے، وہ زیادہ ورائٹی کے ساتھ بولنگ کرتے ہیں، اور وہ ایسے بولر نہیں بننا چاہتے جو بس کبھی کبھار کی شاندار گیند پر انحصار کرے۔
پاکستانی شائقین ان پر نظر کیوں رکھیں
پاکستان میں لیگ اسپن خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر درمیانی اوورز میں اور جب پچ تھکنے لگے۔ عادل رشید کے ساتھ انگلینڈ لاہور میں دو لیگ اسپنرز کھلا سکتا ہے، جہاں سیریز 25 اکتوبر سے منتقل ہو رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی بیٹرز نے ہوم گراؤنڈ پر اسپن کو اچھا کھیلا ہے، لیکن ورائٹی والا نیا چہرہ ہمیشہ امتحان ہوتا ہے۔
ان کی کہانی یہ یاد دہانی بھی ہے کہ اگر آپ وکٹیں لیتے رہیں تو کیریئر برسوں بعد بھی دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



