سوالیہ نشان جیسے پانچ چینی کے ٹکڑے: پرانے سامان کی دکان کا وہ معمہ جسے لاکھوں لوگ حل کرنے میں لگے ہیں

ایک ہوم ڈیکور کریئیٹر نے پرانی دکان سے عجیب سا چینی کا سیٹ خریدا اور انٹرنیٹ سے پوچھا کہ یہ کس کام کا ہے۔ 56 لاکھ ویوز کے بعد بھی اندازے جاری ہیں۔

A set of mystery porcelain objects bought at a thrift store
تصویر: Know Your Meme / @yours.truly_home

کبھی کبھی انٹرنیٹ کی سب سے بڑی پہیلی کوئی جرم یا سازش نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی وہ برتنوں کا ایک سیٹ ہوتا ہے۔

معمہ

نو یور میم کے مطابق گھریلو سجاوٹ اور پرانی چیزوں کی خریداری پر ویڈیوز بنانے والی ایمی، جو انسٹاگرام پر @yours.truly_home کے نام سے پوسٹ کرتی ہیں، نے ایک پرانے سامان کی دکان سے ایک عجیب سیٹ خریدا:

  • سبز نقش و نگار والے سفید چینی کے پانچ ٹکڑے، ہر ایک سوالیہ نشان کی شکل کا۔
  • یہ ایک عمودی اسٹینڈ کے گرد لپٹے ہوتے ہیں، اور بیچ میں ہم رنگ گلدان ہے۔

انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس کام کا ہے، اس لیے انہوں نے اپنے فالوورز سے پوچھا۔

اندازے

پوسٹ کو چند دنوں میں 56 لاکھ سے زیادہ ویوز ملے اور کمنٹس نظریات سے بھر گئے۔ پھر ایمی نے ایک اور ویڈیو میں سب سے مقبول اندازے آزمائے:

  • فونڈیو برتن کے نیچے رکھنے والا اسٹینڈ
  • موم بتی دان
  • نیپکن رِنگ
  • کوسٹر
  • چمچ یا چھری رکھنے کا اسٹینڈ
  • ٹوسٹ ریک
  • انڈے رکھنے والے کپ

دوسری ویڈیو کو بھی لاکھوں ویوز ملے۔

تو آخر یہ ہے کیا؟

پکا کسی کو نہیں معلوم۔ ایمی کے بقول اب تک واحد سراغ یہ ہے کہ “گوگل نے بھی کہا کہ یہ ٹوسٹ کے لیے ہے”۔ سوالیہ نشان والی شکل خود ایک مذاق بن گئی ہے: یہ چیز خود پوچھ رہی ہے کہ میں کیا ہوں۔

انٹرنیٹ کو یہ کیوں پسند ہے

پراسرار چیزیں انٹرنیٹ کی سب سے پرانی اور خوشگوار صنفوں میں سے ہیں۔ ہر کوئی جاسوس بن جاتا ہے، کوئی ہارتا نہیں، اور داؤ پر بس چند روپے کے برتن ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہم یہ احساس خوب جانتے ہیں: ہر گھر میں جہیز کے برتنوں کی ایک الماری ہوتی ہے جو کبھی کسی نے استعمال نہیں کیے اور کوئی پہچان نہیں سکتا۔

اگر آپ نے ایسا سیٹ اپنی نانی کے شو کیس میں دیکھا ہے، تو انٹرنیٹ آپ سے سننا چاہے گا۔

ذرائع

  1. Know Your Meme: Woman buys a bizarre set of porcelain objects at a thrift store, and nobody seems to know what they're for

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں