ٹک ٹاک کا 'بو' ٹرینڈ کیا ہے؟ آنکھیں بھینگی کرنے والا مذاق جو سب اپنے پیاروں کے ساتھ کر رہے ہیں
لوگ 'بو' کہتے، آنکھیں بھینگی کرتے اور کیمرے کی طرف جھکتے ہیں، پھر صرف دوسرے شخص کا حصہ پوسٹ کرتے ہیں۔ بو ٹرینڈ کیسے شروع ہوا اور کیسے کریں۔

اگر آپ نے لوگوں کو آنکھیں بھینگی کر کے “بوووو” کہتے اور کیمرے کی طرف جھکتے دیکھا ہے، تو آپ بو ٹرینڈ دیکھ چکے ہیں، جو اس اکتوبر ٹک ٹاک کا سب سے بڑا مذاق ہے۔
یہ ٹرینڈ کیسے ہوتا ہے
اس کے دو حصے ہیں:
- چہرہ۔ آپ خود کو “بو” کہتے ہوئے ریکارڈ کرتے ہیں، آنکھیں بھینگی کرتے ہیں، عجیب سا منہ بناتے ہیں اور کیمرے کی طرف بڑھتے ہیں، بالکل اصل وائرل ویڈیو کی طرح۔
- مذاق۔ آپ کسی اور کو، عموماً اپنے پارٹنر، والدین یا بہن بھائی کو، ساتھ کرنے پر راضی کرتے ہیں۔ پھر اپنا حصہ ڈیلیٹ کر کے صرف ان کا حصہ پوسٹ کر دیتے ہیں۔ وہ اکیلے بے وقوف لگتے ہیں، اور یہی مذاق ہے۔
یہ کہاں سے شروع ہوا
یاہو انٹرٹینمنٹ میں شائع نو یور میم کی رپورٹ کے مطابق اس کی سب سے پہلی معلوم ویڈیو 20 ستمبر 2026 کو ٹک ٹاک صارف @v99191 نے پوسٹ کی تھی، جس کا کیپشن تھا “Booooo #boooo #relatable #funny #blowthisup”۔ چند ہفتوں میں اسے 84 لاکھ سے زیادہ ویوز اور 11 لاکھ لائکس ملے۔
اکتوبر میں یہ مذاق کا فارمیٹ بن گیا:
- 2 اکتوبر: @jayciebelcher3 نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ یہ مذاق کیا، 10 لاکھ سے زیادہ ویوز۔
- 3 اکتوبر: @93930.r نے بھی یہی کیا، 17 لاکھ ویوز۔
- 6 اکتوبر: @kkk4t33 کی ویڈیو کو تقریباً ایک ہفتے میں 26 لاکھ ویوز اور 6 لاکھ 41 ہزار لائکس ملے۔
- 9 اکتوبر: @nimrashamid نے اپنے والد کے ساتھ یہ مذاق کیا، 7 لاکھ 35 ہزار سے زیادہ ویوز۔
- 12 اکتوبر: @lily_d.88 نے کزن کے ساتھ کیا اور تقریباً ایک دن میں 13 لاکھ ویوز لیے۔
مداحوں نے کے پاپ اسٹارز کے ایسے ہی چہرے بنانے کے ایڈٹس بھی شیئر کیے ہیں۔
یہ کیوں چلتا ہے
یہ جلدی بن جاتا ہے، اس کے لیے کسی ہنر یا سامان کی ضرورت نہیں، اور یہ بے ضرر طریقے سے بھروسے کے ساتھ کھیلتا ہے۔ بہترین ویڈیوز وہ ہیں جن میں “شکار” پوری سنجیدگی سے بڑا سا “بو” کہتا ہے اور پوری آنکھیں بھینگی کرتا ہے، اور بعد میں پتا چلتا ہے کہ آخری ویڈیو میں وہ اکیلا ہے۔
پاکستان میں بھی یہ خوب چل سکتا ہے، جہاں والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ مذاق پہلے ہی پسند کیے جاتے ہیں۔ بس یہ یقینی بنائیں کہ جس کی ویڈیو پوسٹ کر رہے ہیں وہ راضی ہو۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



