ایچ ایس وائی کی پی آئی اے یونیفارم والی پوسٹ: 'رن وے ٹو رن وے' میں کیا کہا گیا؟
پی آئی اے کے نئے یونیفارم ڈیزائن کرنے پر ایچ ایس وائی کی انسٹاگرام پوسٹ کو 13 ہزار سے زیادہ لائکس ملے۔ کیپشن، سبز لباس اور پیئر کارڈن کا حوالہ۔

حسن شہریار یاسین، جنہیں سب ایچ ایس وائی کے نام سے جانتے ہیں، عام طور پر لمبے کیپشن نہیں لکھتے۔ پی آئی اے کے کیبن کریو کے نئے یونیفارم پر ان کی انسٹاگرام پوسٹ اس معاملے میں مختلف ہے، اور اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ وہ اس کام کو کس طرح یاد رکھوانا چاہتے ہیں۔
یہ پوسٹ اس کے بعد آئی جب پی آئی اے نے جمعرات 22 اکتوبر کو اعلان کیا کہ قومی ایئرلائن کے عملے کا نیا روپ ایچ ایس وائی تیار کریں گے۔ یہ سطور لکھتے وقت پوسٹ پر 13 ہزار 600 سے زیادہ لائکس اور تقریباً 540 کمنٹس تھے۔
ایچ ایس وائی کا کیپشن کیا کہتا ہے؟
کیپشن تین الفاظ “رن وے ٹو رن وے” اور پاکستانی جھنڈے سے شروع ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنی بات کرنے کے بجائے 1966 میں جاتے ہیں جب فرانسیسی ڈیزائنر پیئر کارڈن نے پی آئی اے کا مشہور لباس بنایا تھا۔ ایچ ایس وائی لکھتے ہیں کہ اس ڈیزائن کی روایت کا حصہ بننا ان کے لیے بڑا اعزاز ہے۔
یہ آغاز سمجھداری کا ہے۔ پرانی نسل آج بھی کارڈن والے دور کو یاد کرتی ہے جب پی آئی اے کی ایئر ہوسٹسز خود فیشن کی خبر ہوتی تھیں۔ وہاں سے بات شروع کر کے ایچ ایس وائی خود کو ڈیزائنرز کی ایک لڑی میں رکھتے ہیں، یونیفارم کو اپنی ذاتی برانڈ کا لمحہ نہیں بناتے۔
کیپشن کا درمیانی حصہ ان کے کیریئر کے بارے میں ہے: تین دہائیوں سے زیادہ کی کوشش کہ دنیا کو دکھایا جائے پاکستانی ڈیزائن کیا ہو سکتا ہے، اور اس کام کو کیریئر کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک کہنا۔ آخر میں اعتماد، گرم جوشی اور انداز کے بارے میں مختصر جملے ہیں جو “دنیا کو جہاز پر خوش آمدید کہنے والے” لوگ اٹھائیں گے، اور پی آئی اے کا شکریہ۔
پی آئی اے نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بھی یہی “رن وے ٹو رن وے” استعمال کیا اور لکھا کہ ایئرلائن “رن وے کی چمک دمک واپس آسمانوں پر لا رہی ہے۔” ایک جیسے الفاظ بتاتے ہیں کہ دونوں پوسٹس مل کر تیار کی گئیں۔
نئے یونیفارم دیکھنے میں کیسے ہیں؟
اعلان کے ساتھ جاری تصاویر میں گہرا بوتل جیسا سبز رنگ ہر طرف ہے۔ مرد عملے کے لیے اونچے کالر والی بند گلے کی جیکٹ اور اسی رنگ کی پتلون ہے۔ خواتین کے لیے لمبی، فٹنگ والی قمیض جس پر باریک عمودی سلائی ہے، سیدھی پتلون، ایئرلائن کے بیج والی ٹوپی اور ہلکے سرمئی رنگ کا اسکارف۔
یہ پُرسکون، سلا ہوا لباس ہے، دکھاوے والا نہیں، اور سبز رنگ بغیر شور مچائے پی آئی اے اور جھنڈے سے جڑ جاتا ہے۔ لائنیں اتنی صاف ہیں کہ جہاز کے اندر تصویر میں اچھی لگیں، اور یہ اہم ہے کیونکہ مسافر برسوں تک یہ یونیفارم اپنی تصویروں میں پوسٹ کریں گے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پی آئی اے کا کہنا ہے کہ کپڑا ہوا دار ہے اور سلائی لمبی پروازوں اور آسانی سے حرکت کے لیے بنائی گئی ہے۔ ایچ ایس وائی کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے تھے عملہ ان کپڑوں میں بہت پُراعتماد اور آرام دہ محسوس کرے۔
ایچ ایس وائی کا انتخاب کیسے ہوا؟
عرب نیوز کے مطابق کراچی میں ایک شوکیس میں دس پاکستانی ڈیزائنرز نے اپنے خیالات پیش کیے اور فیشن اور صنعت سے جڑے لوگوں کی جیوری نے ایچ ایس وائی کا ڈیزائن چنا۔ گلف نیوز نے جیوری میں شمعون سلطان، نیلوفر شاہد، نبیلہ، حنا طیبہ خلیل اور نسیم تہرانی کے نام بتائے۔
ٹریبیون نے کارڈن کے بعد کی تاریخ بھی یاد دلائی: 1970 کی دہائی میں شاہی ڈیزائنر سر ہارڈی ایمیز، اور پھر نومی انصاری کا ڈیزائن جو 12 سال تک استعمال ہوا۔
مسافر یہ یونیفارم کب دیکھیں گے؟
یہ یونیفارم 31 اکتوبر کو لندن سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی پہلی بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر پرواز پر پہلی بار پہنے جائیں گے۔ ایچ ایس وائی کی اگلی پوسٹ شاید اسی پرواز سے آئے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



