دمام ایئرپورٹ پر حملہ، دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی؛ سعودی تیل تنصیبات پر بھی ڈرون
کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک سعودی اور ایک بھارتی شہری ہلاک ہوئے۔ شیبہ کے قریب ڈرون حملے میں ایک پاکستانی زخمی ہوا۔

بدھ 21 اکتوبر کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے کو دو بار نشانہ بنایا گیا، اور دونوں واقعات میں جنوبی ایشیا کے مزدور بھی متاثرین میں شامل تھے۔
دمام ایئرپورٹ پر کیا ہوا؟
بدھ کی شام دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ ہوا۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پہلے ایک ہلاکت اور آٹھ زخمیوں کی اطلاع دی، بعد میں تعداد دو ہلاک اور آٹھ زخمی بتائی۔
- ہلاک ہونے والوں میں ایک سعودی شہری اور ایک بھارتی شامل ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق ریاض میں بھارتی سفارتخانے نے تصدیق کی کہ دو مزید بھارتی زخمی ہوئے۔
- زخمیوں میں بھارت، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔
- اتھارٹی کے مطابق پروازیں بحال ہو گئی ہیں اور فضائی ٹریفک معمول پر ہے۔
سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ حملہ کس ہتھیار سے اور کس نے کیا۔
شیبہ آئل فیلڈ کے قریب ڈرون
اسی روز سعودی فضائی دفاع نے آرامکو کی شیبہ آئل فیلڈ کی طرف آنے والا ڈرون مار گرایا۔ ملبے سے ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون اور ڈیلی ٹائمز میں شائع رائٹرز اور انادولو کی رپورٹ کے مطابق وزارت توانائی نے بتایا کہ دو افراد ہلاک ہوئے، ایک فلپائنی اور ایک نیپالی، جبکہ دو زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شامل ہیں۔
رائٹرز نے چھ ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ آرامکو نے ظہران ہیڈکوارٹر کا عملہ خالی کرا کے انہیں گھر سے کام کرنے کو کہا ہے۔
پیچھے کون ہے؟
کسی گروپ نے دمام حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے، جس نے اسی دن اپنا غیر ضروری عملہ سعودی عرب سے نکالنے کا حکم دیا، عمومی طور پر “ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں” کو بڑھتے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس ماہ 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے
مشرقی صوبے میں بہت سے پاکستانی کام کرتے ہیں۔ اگر آپ کے گھر والے وہاں ہیں تو:
- سعودی حکام اور ریاض میں پاکستانی سفارتخانے یا جدہ قونصلیٹ کی سرکاری اطلاعات پر نظر رکھیں۔
- پاسپورٹ، اقامہ اور ہنگامی نمبر ساتھ رکھیں۔
- واٹس ایپ پر آنے والی ویڈیوز سے محتاط رہیں، کئی پرانی ویڈیوز “نئے حملے” کہہ کر شیئر کی جا رہی ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



