رمضان چھیپا بار بار میم کیوں بنتے ہیں: کیک والی ویڈیو، 'چھیپا صاحب' اور مزید
'چھیپا صاحب کی طرف سے' لکھے کیک سے اونیجا رابنسن کی پریس کانفرنس تک، کراچی کے مشہور سماجی کارکن پاکستانی میمز کا مستقل حصہ کیسے بنے۔

پاکستان میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو زمینی سطح پر اتنا کام کرتے ہوں اور جن پر اتنی میمز بنتی ہوں جتنی محمد رمضان چھیپا پر۔ کراچی کی چھیپا ویلفیئر تنظیم کے بانی ایمبولینس سروس، ریسکیو کے کام اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے جانے جاتے ہیں۔ آن لائن وہ ایک اور چیز کے لیے بھی مشہور ہیں: ایسی ویڈیوز جنہیں لوگ شیئر کرنا، دہرانا اور ری مکس کرنا نہیں چھوڑتے۔
یہ رہی چھیپا میمز کی کہانی اور یہ بار بار واپس کیوں آتی ہیں۔
کیک والی ویڈیو
جس کلپ نے انہیں میمز کا مستقل کردار بنایا وہ جولائی 2025 میں وائرل ہوا۔ اس میں چھیپا صاحب ایک دکان پر ایک چھوٹے بچے کو سالگرہ کا کیک دے کر حیران کرتے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وہ دکاندار سے کہتے ہیں کہ کیک پر لکھے کہ یہ “چھیپا صاحب” کی طرف سے ہے، لیکن خاندان کو یہ نہ بتائے کہ انہوں نے بھجوایا ہے۔
یہ تضاد، یعنی خفیہ تحفہ مگر اس پر اپنا نام، فوراً میم بن گیا۔ لوگوں نے ہفتوں تک مذاق کیا، پیروڈیز بنائیں اور یہ جملہ دہرایا۔
ردِعمل ملا جلا تھا:
- سچ ٹی وی کے مطابق ماڈل اور ٹی وی میزبان نادیہ حسین نے اسے “کرنج” اور “افسوسناک” کہا۔
- دی کرنٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ناقدین نے ان کی ریلز کو “پرانی پروڈکشن” اور “سستی اداکاری” کہا، اور عبدالستار ایدھی کے خاموش انداز سے موازنہ کیا۔
- حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیوز، جتنی بھی عجیب ہوں، نوجوانوں کو ایمبولینس سروس اور فلاحی کام کے بارے میں بات کرنے پر مجبور کرتی ہیں، اور ضرورت مندوں کو بتاتی ہیں کہ وہ ان کی تنظیم سے رجوع کر سکتے ہیں۔
دی کرنٹ میں ایک صارف نے، جس کا کہنا تھا کہ وہ ان سے مل چکا ہے، لکھا کہ ان کا “دل بڑا ہے اور انا صفر”، اور قصور ان کی کانٹینٹ ٹیم کا ہے، ان کا نہیں۔
اونیجا رابنسن کی پریس کانفرنس
اس سے پہلے جنوری 2025 میں چھیپا صاحب نے اونیجا رابنسن کے لیے پریس کانفرنس کی تھی، وہ امریکی خاتون جو آن لائن ملنے والے ایک شخص سے شادی کرنے کراچی آئی تھیں۔ وی نیوز کی ایک ٹک ٹاک پوسٹ کے بعد اس پریس کانفرنس کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، اور اس کے کلپس آج بھی میمز کے طور پر ری پوسٹ ہوتے ہیں۔
‘زومبیڈ’ مہم
ہپ اِن پاکستان کے مطابق مئی 2026 میں ان کی تنظیم کی ایک تشہیری مہم کو پرانے انداز کی وجہ سے آن لائن مذاق کا نشانہ بنایا گیا، اور اس پر “زومبیڈ” کا لفظ چپک گیا۔
میمز کیوں آتی رہتی ہیں
ایکسپریس ٹریبیون کے رافع محمود نے اچھی بات کہی: چھیپا صاحب کی ویڈیوز آن لائن اس لیے چلتی ہیں کہ ان میں خلوص اور عجیب پن کا ایسا ملاپ ہے جو لوگوں کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور یہ چلتی ہی اس لیے ہیں کہ ان کے پیچھے برسوں کی حقیقی خدمت ہے۔ مصنف کے بقول کردار کے ساتھ “کرنج” کام کر سکتا ہے، اکیلا “کرنج” نہیں۔
چھیپا میمز کو دیکھنے کا یہی منصفانہ طریقہ ہے۔ اسکرپٹ پر ہنسنا ہے تو ضرور ہنسیں، مگر ایمبولینسیں حقیقی ہیں۔
ذرائع
- The Express Tribune: From ambulances to algorithms: Chhipa's leap into meme culture
- SUCH TV: Ramzan Chhipa's viral act sparks debate over 'cringe charity'
- The Current: From 'cheap acting' to 'raising awareness': Internet divided over Ramzan Chhipa's viral reels
- Know Your Meme: American Woman in Pakistan / Onijah Robinson
- HIP in Pakistan: Ramzan Chhipa's 'Zombied' promotion ignites social media storm
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



