'دانش لین دین نہیں': برطانوی پروفیسر جن کا سڑک پر انٹرویو لاکھوں لوگ سن رہے ہیں

50 سال سے زیادہ یونیورسٹی میں پڑھانے والے پروفیسر ڈگلس ڈیویز علم، دانش اور تعلیمی فیس پر بات کر کے وائرل ہو گئے۔ انہوں نے کیا کہا۔

Professor Douglas Davies in a street interview
تصویر: Know Your Meme / Evan Bnormal

ہر وائرل ویڈیو مذاق نہیں ہوتی۔ اس ہفتے انٹرنیٹ کے سب سے زیادہ شیئر ہونے والے کلپس میں سے ایک ایک بزرگ کا ہے جو سڑک کے کنارے آہستگی سے سیکھنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

یہ کون ہیں

یہ پروفیسر ڈگلس ڈیویز ہیں، جن کے بقول وہ 51 سے 52 سال تک یونیورسٹی میں پڑھا چکے ہیں۔ ان کا انٹرویو برطانوی کریئیٹر ایون بریڈی نے کیا، جو آن لائن ایون بی نارمل کے نام سے مشہور ہیں اور بزرگوں سے ان کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

نو یور میم کے مطابق ویڈیو کو چند دنوں میں انسٹاگرام پر 38 لاکھ سے زیادہ ویوز ملے، اور بریڈی نے اسے ٹک ٹاک پر بھی پوسٹ کیا۔

انہوں نے کیا کہا

کچھ جملے ہر جگہ دہرائے جا رہے ہیں:

  • اپنی خوش قسمتی پر: انہوں نے خود کو “بہت خوش قسمت لڑکا” کہا کیونکہ انہیں یونیورسٹی کی فیس کبھی نہیں دینی پڑی۔
  • فیس پر: انہوں نے طلبہ کی فیسوں پر تنقید کی اور آج کے طالب علم اور یونیورسٹی کے رشتے کو “لین دین کی گڑبڑ” قرار دیا۔
  • علم اور دانش پر: ان کا کہنا تھا کہ دانش “لین دین نہیں”۔ یہ زندگی بھر “بصیرت کے چھوٹے چھوٹے قطروں” سے آہستہ آہستہ بنتی ہے۔
  • رہنماؤں پر: جو طلبہ آگے چل کر دوسروں کی رہنمائی کرتے ہیں انہیں “صرف معلومات نہیں، دانش چاہیے”۔

کمنٹس میں ان کے سابق طلبہ نے ان کی کلاسوں کی یادیں شیئر کیں، اور دوسروں نے تعلیم کے مقصد پر اپنی رائے دی۔

یہ بات دل کو کیوں لگی

ہم کسی بھی پچھلی نسل سے زیادہ معلومات کے ساتھ جی رہے ہیں، جو بس ایک سرچ یا چیٹ بوٹ کی دوری پر ہیں۔ ڈیویز کا نکتہ یہ ہے کہ یہ اس بات کو جاننے کے برابر نہیں کہ ان معلومات کا کیا کیا جائے۔

یہ بات پاکستان میں بھی سمجھ آتی ہے، جہاں تعلیم کو اکثر نمبروں، ڈگریوں اور نوکریوں کی دوڑ سمجھا جاتا ہے، اور جہاں خاندان نجی اسکولوں، اکیڈمیوں اور یونیورسٹی فیسوں پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں۔ ان کا یہ خیال کہ اصل سیکھنا آہستہ، ذاتی اور بس خریدا نہ جا سکنے والا عمل ہے، یہاں کے بہت سے والدین اور اساتذہ پہچانیں گے۔

انٹرنیٹ کا اچھا رخ

سڑک پر انٹرویوز عموماً جلدی ہنسانے کے لیے بنتے ہیں۔ یہ انٹرویو دکھاتا ہے کہ یہ فارمیٹ کوئی گہری بات بھی کہہ سکتا ہے، اور ناظرین چند منٹ کی پُرسکون سمجھداری کے لیے خوشی سے اسکرولنگ روک دیتے ہیں۔

ذرائع

  1. Know Your Meme: Beloved British professor goes viral for sharing his wisdom about life and the state of our current education system

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں