ٹائیگر شروف فائرنگ کیس: 8 گرفتاریاں، گینگ نے سلمان اور رنبیر کے گھروں کی بھی ریکی کی
ممبئی میں فٹبال گراؤنڈ کے باہر ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔ پولیس اسے لارنس بشنوئی گینگ سے جوڑ رہی ہے۔

بالی وڈ ایک بار پھر خوف زدہ ہے۔ گزشتہ اتوار ممبئی میں ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، اور پولیس کا کہنا ہے کہ اسی گروہ نے سلمان خان کو نشانہ بنانے کا سوچا تھا اور رنبیر کپور کے گھر کی ریکی کی تھی۔
کیا ہوا؟
فری پریس جرنل کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق اتوار 18 اکتوبر کو ٹائیگر شروف کی بی ایم ڈبلیو جوہو کے ایک فٹبال گراؤنڈ سے نکل رہی تھی کہ موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے فائرنگ کر دی۔ ایک راہگیر کی ویڈیو میں مبینہ طور پر پانچ گولیوں کی آواز اور مداحوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ واقعہ جوہو تھانے سے تقریباً 500 میٹر دور ہوا۔
ان کا ڈرائیور زخمی ہوا اور اسے ناناوتی اسپتال لے جایا گیا۔ رپورٹس میں ٹائیگر کے زخمی ہونے کا ذکر نہیں۔ پولیس نے ان سے بھی پوچھ گچھ کی۔
اصل میڈیا کے مطابق عدالت میں پولیس نے بتایا کہ ملزمان کو مداحوں کی سوشل میڈیا پوسٹس سے پتا چلا کہ ٹائیگر ہر اتوار جوہو میں فٹبال کھیلتے ہیں جہاں سیکیورٹی کم ہوتی ہے۔
پیچھے کون ہے؟
گینگسٹر انیل پنڈت اور لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک ایک فیس بک اکاؤنٹ نے مبینہ طور پر حملے کی ذمہ داری قبول کی اور فلم انڈسٹری کے دیگر افراد، خاص طور پر سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والوں کو دھمکیاں دیں۔ پولیس پوسٹ کی تصدیق کر رہی ہے۔
گرفتاریاں
اصل میڈیا کے مطابق:
- اب تک آٹھ افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔
- تین اہم ملزمان ریحان عرف سکہ، رتک کرمی عرف روشن اور پھول سنگھ کوٹہ، راجستھان سے پکڑے گئے اور 31 اکتوبر تک پولیس تحویل میں ہیں۔
- پانچ مزید افراد ہریانہ اور اتر پردیش سے اسلحہ سپلائی نیٹ ورک کے الزام میں پکڑے گئے۔ پولیس کے مطابق دو خواتین ٹرین کے ذریعے اسلحہ ممبئی لائیں۔
سلمان اور رنبیر
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے پہلے سلمان خان کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا اور ان کے گھر کی ریکی کی، لیکن باہر پولیس دیکھ کر ارادہ ترک کر دیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر باندرہ میں رنبیر کپور کے گھر کی بھی نگرانی کی۔
بشنوئی گینگ برسوں سے سلمان خان کو دھمکیوں سے جڑا رہا ہے، اسی لیے اس کیس نے پوری انڈسٹری کو پریشان کر دیا ہے۔
مداحوں کے لیے سبق
ایک تشویشناک بات یہ ہے کہ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر مداحوں کی پوسٹس سے ٹائیگر کا معمول جانا۔ کسی مشہور شخصیت کی لائیو لوکیشن پوسٹ کرنا، چاہے معصومیت میں ہو، انہیں خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ سیلفی بعد میں شیئر کریں، لائیو نہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



